انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 541

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۴۱ سیر روحانی (۶) تا کہ پھندا پڑ جائے اور وہ نکلنا بھی چاہے تو نکل نہ سکے اور اس کی حرکت زیادہ سے زیادہ محدود رہ جائے۔سے پس وہ تو یہ معنی کرتے ہیں کہ اپنے جسم کی گندگی دور کر یعنی کپڑے بھی دھو اور جسم کی گندگی بھی دور کر ، لیکن ہم کہتے ہیں کہ ان معنوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ایک شبہ کا ازالہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کے متعلق یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ بعض دفعہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جاتا ہے اور مراد اُمت ہوتی ہے۔اس طرح ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچاؤ کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ گندگی اور غلاظت دُور کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد آپ کی اُمت ہے لیکن اس جگہ یہ معنے نہیں ہو سکتے اس لئے کہ یہ تو گورنر کے تقرر کا اعلان ہے جب اُس کی اُمت کو ئی تھی ہی نہیں ، جب اُمت تھی ہی نہیں اور آپ کو خاتم النبیین کے عہدہ پر قائم کیا جارہا تھا تو اُس وقت اِس کا کیا ذکر تھا کہ تیرے مرید کپڑے بھی دھوئیں اور جسم کی غلاظت بھی دُور کر میں اُس وقت بہر حال کلام مخصوص تھا محمد رسول اللہ سے۔اُس وقت میں دوسرے لوگوں کی شرکت کا کوئی سوال نہیں تھا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان معنوں کا سیاق وسباق سے بھی کوئی جوڑ نہیں۔پہلے کہا جاتا ہے ساری دنیا کو تبلیغ کر۔پھر کہتا ہے ٹھہر جا پہلے کپڑے دھو لے۔پھر کہتا ہے کپڑے بھی ابھی رہنے دے پہلے نہالے۔غرض بالکل غیر متعلق باتیں ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ کے کلام میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔اب میں بتاتا ہوں کہ اس آیت کے اصل معنے کیا ہیں اور ہر معنی کے لحاظ سے اس آیت سے کتنے بڑے معارف نکلتے ہیں۔میں نے بتایا کہ رجز کے تین معنے ہیں گندگی، عذاب اور شرک۔اور ہجر کے معنے چھوڑنے کے بھی ہیں ، کاٹنے کے بھی ہیں اور گلے اور پیر میں رسہ باندھ کر حرکت کو محدود کرنے کے ہیں۔ان معنوں کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مطابق جو معنے بنتے ہیں وہ یہ ہیں۔