انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 513

انوار العلوم جلد ۲۲ ۵۱۳ سیر روحانی (۶) الہی دربار میں کسی چھوٹے سے چھوٹے پھر میں نے دیکھا کہ دنیوی بادشاہوں کے دیوان خاص درباری کی ہتک بھی برداشت نہیں کی جاسکتی میں جو امراء ہوتے ہیں ان میں با ہم رقابتیں اور بغض اور کینے پائے جاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس الہی دربار میں اگر کوئی بڑا ہے تو بڑے نے چھوٹے پر کیا حسد کرنا ہے وہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ کسی چھوٹے کی ہتک ہو جائے یا اس کی کسی رنگ میں تنقیص کی جائے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جن کے مقابلہ میں موسی کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے، جن کے مقابلہ میں ابراہیم کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے تھے، جن کے مقابلہ میں نوح کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے، ان موسیٰ اور ابراہیم اور نوح سے کم درجہ رکھنے والوں اور موسیٰ کے ماتحت نبیوں میں سے ایک یونس نبی ہیں کوئی یہودی کسی جھگڑے میں کہہ دیتا ہے کہ یونس بڑا آدمی تھا مسلمان آگے سے کہہ دیتا ہے محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں یونس کی کیا حقیقت ہے۔اب بجائے اس کے کہ دربارِ خاص کا آدمی خوش ہو کہ میری عزت کی گئی ہے جب اس کو خبر پہنچتی ہے تو اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور وہ کہتا ہے لَا تُفَضِّلُونِي عَلَى يُونُسَ ابْنِ مَتى ل یونس بن متی پر مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔حالانکہ فضیلت ہے لیکن کسی درباری کی وہ ہتک برداشت نہیں کرتا وہ کہتا ہے چاہے وہ چھوٹا ہی سہی پر تم نے کیوں اس کو چھوٹا کہا ؟ تمہارا کام یہی ہے کہ اس کی عزت کرو کیونکہ وہ خدا کے درباریوں میں سے ہے۔ابو البشر آدم کی پیدائش پر اب میں ایک دربار خاص کا ذکر کرتا ہوں جو قرآن کریم نے دربار خاص کا انعقاد بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَعَلَّمَ ادَمَ الأسْمَاء كُهَاثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلى المَلئِكَةِ فَقَالَ انْبِتُونِي بِأَسْمَاء هَؤُلاء اِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ قَالُوا سُبْحَنَكَ لا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ العَلِيمُ الْحَكِيمُ قَالَ يَادَمُ انْبِتُهُمْ بِاسْمائِهِمْ فَلَمَّا انْبَاهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ