انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 492

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۹۲ چشمہ ہدایت بلا وجہ آج محمد کو مارا تھا اور اُس نے اپنے ساتھیوں کو ٹھنڈا کر دیا لیکن آگ سلگ چکی تھی۔حمزہ وہاں گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھا کرتے تھے اور عرض کیا ! يَا رَسُول اللہ ! میں مسلمان ہونے کے لئے آیا ہوں اور اسلام لے آئے۔کے یہ تھی حق کی مظلومیت۔مظلومیت خود اپنے اندر طاقت رکھتی ہے تم ظلم کرتے چلے جاؤ سعید فطر تیں ہمیشہ اس کے خلاف مقابلہ میں پروٹسٹ کریں گی ، ہمیشہ اس کے خلاف احتجاج کریں گی مجھے اپنی زندگی کا ایک واقعہ یاد ہے۔سیالکوٹ میں میں نے لیکچر دیا، کشمیر موومنٹ کے سلسلہ میں جلسہ تھا۔مخالفین نے حملہ کر دیا۔چنانچہ بیس ہزار آدمی ہجوم کرتے ہوئے اُس جگہ جو قلعہ کہلاتا ہے جمع ہو گئے اُنہوں نے پہلے سے منصوبہ کیا ہو ا تھا، پھر اُن کی جھولیوں میں بھرے تھے اور وہ برابر ایک گھنٹہ اور پانچ منٹ تک پتھر برساتے گئے۔لوگ مجھ سے بہتیری خواہش کرتے کہ لیکچر بند کیجئے مگر میں نے کہا نہیں لیکچر بند نہیں ہوسکتا۔چنانچہ وہ برابر پتھر مارتے رہے۔آخر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور وہ بھاگ گئے۔میں نے غیر احمد یوں سے کہا کہ آپ لوگوں کے لئے یہ پتھر نہیں مار ر ہے ہمارے لئے مار رہے ہیں یہ ہما را تحفہ ہے پاس ہی کوٹھی تھی میں نے کہا آپ اس میں چلے جائیں، گھر جانا ہے تو گھر چلے جائیں۔کچھ لوگ اُٹھے مگر باقی بدستور بیٹھے رہے اور انہوں نے کہا کہ یہ آپ پر جو پتھر پڑ رہا ہے نا جائز پڑ رہا ہے اور ہم بھی اس میں آپ کے شریک ہیں۔احمدیوں سے میں نے کہا کہ کروٹ نہیں بدلنا۔جس وقت کوئی ڈھیر ہو جائے اُس وقت دوسرے لوگ اُسے اُٹھا کر لے جائیں۔چنانچہ چھپیں آدمی ہمارے زخمی ہوئے اور ایک کا تو ہاتھ ہی مارا گیا مگر کوئی احمدی ملا نہیں۔پیغامیوں کے ایک مبلغ ہوتے تھے جو ہمارے شدید مخالف تھے اب وہ فوت ہو چکے ہیں اس لئے نام بتانے میں کوئی حرج نہیں یعنی مولوی عصمت اللہ صاحب۔وہ ہمارے سخت مخالف تھے لیکن رات کے ایک بجے وہ اُس کوٹھی پر پہنچے جہاں میں ٹھہرا ہو اتھا۔لوگوں نے بتایا کہ عصمت اللہ صاحب آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ خواہ ایک منٹ ہی ملاقات کا