انوارالعلوم (جلد 22) — Page 491
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۹۱ چشمہ ہدایت بزرگوں کی ہتک کرتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر صرف آنکھ اُٹھائی اور کہا کہ آخر تم لوگ مجھے کیوں دکھ دیتے ہو اور کیوں میرے ساتھ دشمنی کرتے ہو؟ میرا سوائے اِس کے کیا قصور ہے کہ میں کہتا ہوں کہ تمہارا خدا جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے اُس کو مان لو۔ابوجہل اس فقرہ کو سُن کر چلا گیا۔پاس ہی حضرت حمزہ کا مکان تھا۔حمزہ اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔اُن کی ایک لونڈی اُس وقت دروازہ پر کھڑی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔غلام غلام ہی ہوتا ہے لیکن دیر تک رہنے کی وجہ سے وہ بھی خاندان کا جز دہو جاتا ہے۔یہ دیکھ کر اُس کا دل برداشت نہ کر سکا اور وہ سارا دن گڑھتی رہی۔حمزہ اپنی عادت کے مطابق شکار کو گئے ہوئے تھے شام کے وقت ترکش گردن میں ڈالی ہوئی اور کمان پکڑی ہوئی بڑے اکڑتے ہوئے جیسے شکاری ہوتے ہیں غرور سے گھر میں داخل ہوئے۔اُن کو اس حالت میں دیکھتے ہی اس لونڈی کو غصہ آ گیا ، وہ تھی کو نڈی مگر پرانی تھی اور اپنا حق سمجھتی تھی دیکھ کر کہنے لگی بڑا اوپچی بنا پھرتا ہے تو اور کمان لگائی ہوئی ہے آخر یہ کس بات کے لئے ہے؟ آج میں نے دیکھا کہ تیرا بھتیجا با ہر پتھر پر بیٹھا ہوا تھا میں دروازہ پر کھڑی تھی خدا کی قسم! میں نے یہ سُنا اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔اور پھر ابو جہل نے آکر اُس کو تھپڑ مارا۔یہ فقرہ حمزہ نے سُنا وہ حمزہ جو روز قرآن سنتا تھا مگر اسلام لانے کی جرات نہیں کرتا تھا جب اُس کے سامنے ننگے طور پر یہ بات پیش کی گئی کہ ایک شخص عقیدہ پیش کرتا ہے اور ایک ظالم اُٹھ کر اُسے مارتا ہے تو حمزہ سے برداشت نہ ہو سکا۔وہ اُسی وقت گھر سے نکلے خانہ کعبہ میں ابو جہل اور اُس کے ساتھی رؤوسا بیٹھے ہوئے تھے اور مجلس میں کہیں لگ رہی تھیں۔حمزہ نے پہنچتے ہی اپنی کمان اُٹھا کر اُس کے منہ پر ماری اور کہا محمد تیرے آگے جواب نہیں دیتا اس لئے تو دلیر بنتا ہے۔اب میں نے تیرے منہ پر کمان ماری ہے اور سارے مکہ والوں کے سامنے تیری ہتک کی ہے اُٹھ ! اگر تیرے اندر طاقت ہے تو جواب دے۔وہ امراء جو اُس کے ساتھ بیٹھے تھے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے چاہا کہ بدلہ لیں لیکن حق کا رُعب ہوتا ہے۔ابو جہل نے سمجھا اس وقت مار لیا تو آدھا مکہ اس کی طرف سے کھڑا ہو جائے گا اس لئے اُس نے کہا آج مجھ سے ہی کچھ غلطی ہو گئی تھی میں نے