انوارالعلوم (جلد 22) — Page 486
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸۶ چشمہ ہدایت ہیں یا نہیں ؟ کہنے لگے کیوں نہیں ، میں ابھی دکھا دیتا ہوں وہ اُس وقت مرغا کھا رہے تھے۔پہلے تو خوب مزے لے لے کر اس کی بوٹیاں کھائیں جب کھا کر فارغ ہوئے تو کہنے لگے، ارے! اس کی ہڈیاں جمع کر کے لانا۔ہڈیاں جمع کر کے لائی گئیں تو انہوں نے او پر ہاتھ رکھا اور اُسی وقت گڑ گڑ گڑ گڑا کرتا ہو امر غ نکل آیا۔وہ کہنے لگا یہ ہوتا ہے معجزہ۔بھلا یہ کیا معجزہ ہے کہ فلاں آدمی مر جائے گا اور فلاں کے ہاں بیٹا پیدا ہو جائے گا۔پس یا تو وہ یہ کہیں گے کہ معجزہ ہوتا ہی نہیں اور یا پھر گڑ گڑ گر گر کرتا ہو ا معجزہ مانگیں گے درمیان میں کوئی مقام ہی نہیں ہوتا جہاں وہ ٹھہر سکیں۔لیکن دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانٍ فَباي الآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبن ۲۰ تمہارا خدا وہ ہے جو ہر وقت ایک نئی قدرت دکھاتا ہے۔یہ کہنا کہ کسی وقت اُس کی قدرت ظاہر نہیں ہو سکتی درست نہیں بلکہ ہر وقت ہی اللہ تعالیٰ اپنی نئی قدرت اور نیا جلوہ دکھاتا ہے۔دیکھی ہوئی چیز کو دوبارہ دیکھنا لطف نہیں دیتا انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جدت کا مادہ رکھا ہوا ہے۔چنانچہ جب ریل گاڑی جاری ہوئی تو شروع شروع میں لوگ اُسے مجو بہ سمجھتے ہوئے اس پر پھولوں کے ہار ڈالتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ان کا جوش ختم ہو گیا۔پھر ہوائی جہاز اور دوسری سواریاں نکلیں تو اُن کی طرف متوجہ ہو گئے۔غرض فطرتِ انسانی کو ہمیشہ نئی چیزوں سے لطف آتا ہے اور وہ نئی نئی چیزوں سے تسلی پاتی ہے۔مجھے قرآن پڑھ کر بڑا مزہ آتا ہے لیکن جب کبھی رات کو خدا میرے کان میں کوئی بات کہتا ہے تو کچھ نہ پوچھو کہ اس کا کیا مزہ ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک نئی چیز ہوتی ہے۔غرض قرآن یہ کہتا ہے کہ خدا ہر گھڑی ایک نئی قدرت دکھاتا ہے۔مگر مسلمان اس کا انکار کرتے ہیں۔عقل بھی یہی کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں دکھائے کیونکہ جب خدا دیکھتا ہے اور اس کے دیکھنے کی صفت معطل نہیں ، جب وہ سنتا ہے اور اُس کے سننے کی صفت معطل نہیں۔جب وہ پیدا کرتا ہے اور اس کے پیدا کرنے کی صفت معطل نہیں تو اُس کی قدرت کی صفت کیوں ظاہر نہیں ہو سکتی۔جس طرح وہ سمیع ہے اور بصیر ہے اور خالق ہے اور یہ صفات ہمیشہ ظاہر ہوتی ہیں اسی طرح ضروری ہے کہ اُس کی قدرت کی صفت بھی ہمیشہ