انوارالعلوم (جلد 22) — Page 485
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۸۵ چشمہ ہدایت مسلمانوں نے یہ عقیدہ رکھ لیا کہ رازی تک جس قدر نکتے کھل سکتے تھے کھل گئے اب تمام نکات اور معارف کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اب کوئی نیا نکتہ اس کتاب میں سے نہیں نکل سکتا اور جب اس کتاب میں سے نہیں نکل سکتا جب اس کتاب کے متعلق یہ عقیدہ رکھ لیا جائے تو پھر کسی کو کیا ضرورت ہے کہ وہ قرآن شریف پڑھا کرے وہ تو پھر رازی کی کتاب ہی پڑھا کرے گا۔جیسے لوگ بڑے شوق سے انگور کھاتے ہیں لیکن انہی انگوروں کا اگر شربت بنا لیا جائے تو پھر لوگ شربت کی بوتل رکھ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب انگور لے کر ہم نے کیا کرنا ہے۔اسی طرح جب امام رازی تک قرآن کا نچوڑ تمام تفسیروں میں آ گیا تو مسلمانوں کو کوئی ضرورت نہ رہی کہ وہ قرآن پڑھا کریں اسی لئے قرآن جاننے والے مسلمان بہت کم پائے جاتے ہیں لیکن تفسیریں پڑھے ہوئے مسلمان کافی تعداد میں مل جاتے ہیں ، صرف مولوی عبید اللہ صاحب سندھی نے مسلمانوں میں درس قرآن کا کچھ رواج ڈالا ہے اور وہ بھی ہم سے سیکھ کر کیونکہ وہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان آتے رہے ہیں ورنہ صدیوں تک مسلمان جلالین اور دوسری تفسیر میں ہی پڑھتے رہے ہیں۔قرآن کی طرف اُنہوں نے توجہ نہیں کی کیونکہ جب اُنہوں نے یہ سمجھ لیا کہ افشردہ انگور و ہم نے لے لیا ہے تو پھر باقی جو کچھ رہ گیا وہ ان کی نگاہ میں صرف چھلکے کی حیثیت ہی رکھ سکتا تھا ، اس کو لے کر انہوں نے کیا کرنا تھا۔چھٹی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے یہ پیش فرمائی کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ اپنی قدرتوں کو ظاہر کرتا رہتا ہے۔غیر احمدی کہتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ معجزات ظاہر نہیں کرتا گو اُنہی میں سے ایک طبقہ اس بارہ میں اُن سے اختلاف بھی رکھتا ہے اور وہ معجزات کا قائل ہے مگر جو معجزات ماننے والے ہیں وہ ایسے ایسے معجزات مانتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک شخص نے ہمارے خلاف ایک دفعہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مرزا صاحب اپنا بڑا معجزہ یہ بیان کرتے ہیں کہ لیکھرام اُنکی پیشگوئی کے مطابق مارا گیا یا فلاں کے ہاں بیٹا پیدا ہو گیا۔بھلا یہ بھی کوئی معجزہ ہے۔معجزہ تو یہ ہوتا ہے کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی کے پاس ایک دفعہ ان کا ایک مرید آیا اور اس نے پوچھا کہ حضور کبھی مُردے بھی زندہ ہوتے