انوارالعلوم (جلد 22) — Page 22
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۲ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو چاہئے تھا کہ مفیں بھی ترتیب کیسا تھ لگائی جاتیں۔پس میری پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ آئندہ اگر خیمے لگائے جائیں تو وہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک ہی لائن اور ایک ہی صف میں ہوں۔دوسرے چونکہ خدام نے ایک خاص وقت میں صف میں کھڑا ہونا ہوتا ہے اس لئے خیموں کے آگے ایک لائن لگا دی جائے جس پر تمام خدام ایڑیاں رکھ کر کھڑے ہوں۔صف بندی ہمیشہ ایڑیوں کے ساتھ ہوتی ہے اُنگلیوں کے ساتھ نہیں ہوتی۔اگر صف بندی اُنگلیوں کے لحاظ سے کی جائے گی تو کسی کا پاؤں چھوٹا ہوتا ہے اور کسی کا بڑا اس لئے کی کسی کا پاؤں آگے ہو جائے گا اور کسی کا پیچھے۔پس صرف ایڑی ہی ایسی چیز ہے جس پر صف بندی کی بنیا د رکھی جاتی ہے اس لئے آئندہ کے لئے یہ بات نوٹ کر لی جائے کہ ہر خیمے کے آگے ایک لائن کھینچ دی جایا کرے تا اُس پر خدام سیدھی ایڑیاں رکھ کر کھڑے ہو جایا کریں۔اس کے علاوہ صف بندی کی خاص طور پر مشق کرانی چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز میں جس کی صف سیدھی نہیں اُس کا دل ٹیڑھا ہے یا ہمیں جب عید کے موقع پر یا کسی جنازہ کے لئے کھلے میدان میں صفیں بندھوانی پڑتی ہیں۔تو با وجود پوری کوشش کے وہ ہمیشہ خراب رہتی ہیں کیونکہ مسجدوں میں دیواروں اور صفوں کی وجہ سے صفیں سیدھی باندھی جا سکتی ہیں لیکن کھلے میدان میں ایسا مشکل ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جوانی میں صف سیدھی رکھنے کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔پس خدام کو ہدایت دینی چاہئے کہ وہ صف بندی کی مشق کریں اور پھر اپنی اپنی جگہوں پر جا کر باقی خدام کو صف بندی کی مشق کرائیں۔فوجیوں کو دیکھ لو ان کی صفیں ہمیشہ سیدھی ہوتی ہیں۔ہمارے لوگ صف سیدھی کرنے کے لئے نیچے مُجھک کر دیکھتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔فوجیوں میں صف سیدھی کرنے کا طریق یہ ہے کہ وہ سید ھے چھاتی نکال کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کندھے کے ساتھ کندھا ملا لیتے ہیں۔پھر آنکھ کو دائیں پھیر کر دیکھتے ہیں کہ کہیں صف ٹیڑھی تو نہیں۔اگر صف ٹیڑھی معلوم ہو تو وہ فوراً سیدھی کر لیتے ہیں۔پس جہاں سالانہ اجتماع کے موقع پر مختلف ق