انوارالعلوم (جلد 22) — Page 21
انوار العلوم جلد ۲۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۲۱ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو نَحْمَدُهُ وَ نُصَلّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سچا ایمان، پیہم عمل اور راستبازی کی عادت پیدا کرو فرموده ۲۱ /اکتوبر ۱۹۵۰ء بر موقع افتتاح سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ بمقام ربوہ ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- دنیا میں جب بھی کوئی اجتماع ہوتا ہے تو ہمیشہ اُسے ایک مناسب صورت دی جاتی ہے اور اسلام نے بھی اس کو ملحوظ رکھا ہے۔مثلاً ہمارا روزانہ کا اجتماع نماز ہے۔نماز کو ہمارے خدا نے شروع ہی سے ایک ایسی شکل دی ہے جو سارے مسلمانوں میں یکساں نظر آتی ہے۔یعنی سب مسلمانوں کا ایک طرف منہ کرنا ، پھر ایک خاص وقت میں خاص قسم کی حرکات کرنا یعنی نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اوپر اُٹھانا، پھر سینہ پر ہاتھ باندھنا، منہ قبلہ رُخ کرنا ، رکوع کرتے وقت سب کا گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر مجھک جانا ،سجدہ میں منہ اور ناک زمین پر لگانا اور اسی طرح کی اور مختلف حرکات کرنا اور ان سب باتوں کا ایک ہی وقت میں تمام کے تمام مسلمانوں میں جاری ہونا اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وحدتِ کامل وحدت صوری کے بغیر نہیں ہو سکتی۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ خدام میں وہ وحدت صوری پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔کچھ خدام تو ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور کچھ ہاتھ لٹکائے کھڑے ہیں۔کچھ خدام ایک طرف دیکھ رہے ہیں تو کچھ دوسری طرف دیکھ رہے ہیں گویا اس تھوڑے سے وقت میں بھی خدام اس تنظیم کو جو درحقیقت اسلام نے ہی قائم کی ہے لیکن مسلمانوں نے اسے بھلا دیا ہے قائم نہیں رکھ سکے۔دوسرے صفیں ٹیڑھی ہیں۔کوئی خادم آگے کھڑا ہے تو کوئی پیچھے کھڑا ہے۔بیشک خیمے لگے ہوئے ہیں اور خدام ان کے آگے کھڑے ہیں لیکن جہاں خیمے ترتیب کے ساتھ ایک لائن میں لگائے گئے ہیں وہاں