انوارالعلوم (جلد 22) — Page 444
انوار العلوم جلد ۲۲ چشمہ ہدایت باتیں کر رہے ہو لیکن غور کرو کیا ابو جہل کی بھی یہی دلیل نہیں تھی کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے ملک کی ننانوے فیصدی آبادی کے خیالات کے خلاف کوئی بات کہے۔آخر آج جو دلیل تم دیتے ہو کیا وہی دلائل ابو جہل نہیں دیا کرتا تھا ؟ تمہارے کہنے پر حکومت بے شک مجھے پکڑ سکتی ہے ، قید کر سکتی ہے، مار سکتی ہے لیکن میرے عقیدہ کو وہ دبا نہیں سکتی۔اس لئے کہ میرا عقیدہ جیتنے والا عقیدہ ہے وہ یقیناً ایک دن جیتے گا تب ایسا تکبر کرنے والے لوگ پشیمان ہونے کی حالت میں آئیں گے اور انہیں کہا جائے گا بتاؤ کیا تمہارا فتویٰ اب تم پر عاید کیا جائے ؟ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور اکثریت کا گھمنڈ کرنے والے لوگ آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے انہیں فرمایا بتا ؤ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ آپ کا مقصد یہ کہنے سے یہی تھا کہ وہ اپنی اکثریت کے زعم میں جو کچھ کہا کرتے تھے وہ اُنہیں یاد دلایا جائے۔کفار نے کہا بے شک ہم نے بہت ظلم کئے لیکن ہم آپ سے یوسف والے سلوک ہی کی اُمید کرتے ہیں۔میں بھی کہتا ہوں کہ اُس دن جب تمہارا اکثریت میں ہونے کا غرور ٹوٹ جائے گا تو خواہ اُس وقت میں ہوں یا میرا قائمقام تم سے بھی بہر حال یوسف والا سلوک ہی کیا جائے گا۔( انشاء اللہ ) اصل دیکھنے والی چیز ہمارے لئے یہ ہے کہ ہم سوچیں اور غور کریں کہ کیا واقعی ہم نے اپنے خدا کو خوش کر لیا ہے؟ کیا ہمیں وہ چیز مل گئی ہے جس کی خاطر ہم نے دُنیا جہاں کی مخالفتیں مول لی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر واقعی ہمیں دُنیا کی کسی طاقت کی پرواہ نہیں لیکن اگر یہ چیز نہیں ملی تو خواہ دُنیا کہے یا نہ کہے ہم مر چکے اور ہمارا دل ہی ہماری حالت پر نوحہ کناں ہوگا۔پس پورا زور لگاؤ کہ وہ چیز ہمیں حاصل ہو جائے جس کی خاطر ہم یہ سب تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں۔لیکن وہ چیز کیا ہے؟ وہ چیز ہے ایمان باللہ جسے قرآن مجید نے مومنوں کے سامنے ایک بہترین تحفہ کے طور پر پیش کیا ہے۔اگر ایمان باللہ مل جائے اور اگر اس کے سارے پہلو اُسی طرح محفوظ ہوں جس طرح قرآن مجید کہتا ہے تو پھر سمجھ لو کہ تم نے سر کچھ پالیا۔“ ( الفضل ۳ / جنوری ۱۹۵۲ ء لا ہور )