انوارالعلوم (جلد 22) — Page 443
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۴۳ چشمہ ہدایت میں جو تعزیرات نافذ ہیں کیا ان سب کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے؟ اس دلیل کی رو سے تو پاکستان کی تعزیرات میں سے نصف کے قریب فوراً منسوخ کرنی پڑیں گی کیونکہ ان کا قرآن مجید میں کوئی ذکر نہیں ہے۔در حقیقت اس قسم کے بل پیش کرنے اور پھر ان کو مستر د کر نے کے لئے اس قسم کی دلیلیں دینے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آج مسلمان کس قدر پراگندہ خیال ہو چکے ہیں۔وہ بالکل متضاد چیزیں پیش کرتے ہیں اور پھر انہیں اسلام کا نام دے دیتے ہیں۔مثلاً اگر پاکستان میں یہ قانون پاس ہو جاتا تو یہاں پردے کی خلاف ورزی کرنے پر سزا ملتی۔لیکن اس کے برعکس لڑکی میں یہ قانون جاری ہے کہ جو پردہ کرے اُسے سزا دی جائے۔اور کئی دیگر اسلامی ممالک میں یہ قانون رائج ہے کہ نہ پردے کی پابندی پر سزا ملتی ہے اور نہ اسے چھوڑنے پر۔گویا تینوں متضاد صورتیں اسلامی ممالک میں رائج ہیں لیکن تینوں صورتوں کو اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ پراگندہ خیالی ہے جسے دور کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے ہیں۔آپ نے یہی بتایا ہے کہ جب تک مسلمان اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے ایک ہاتھ پر جمع نہ ہوں گے تا ساری اسلامی دنیا میں ایک ہی قانون اور فتویٰ جاری ہو اُس وقت تک وہ کبھی بھی موجودہ انتشار اور پراگندگی سے بچ نہیں سکتے نہ مذہبی طور پر نہ سیاسی طور پر۔گو ہماری ہر جگہ مخالفت کی جاتی ہے لیکن ذرا غور کر واحمدیت کی ضرورت کتنی واضح ہو جاتی ہے۔اس تمسخر کو دیکھ کر جو آج خود مسلمان اسلام سے کر رہے ہیں ہر طبقہ اور ہر فرقہ اپنے خیال اور اپنی خواہش کو اسلام کی طرف اور قرآن کی طرف منسوب کر دیتا ہے اور اپنی اکثریت کے زعم میں دوسروں سے جبراً اپنے مسلک کو منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ایسا کرنے میں آج وہ اخبار بھی شامل ہے جس نے حال ہی میں حکومت کو میرے خلاف کا رروائی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔میں ایسے اخبار نویسوں کو کہتا ہوں کہ تمہاری یہ دھمکیاں اس لئے ہیں نا کہ تم زیادہ ہو اور ہم تھوڑے ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ تم اس قسم کی باتیں انگریزوں اور ہندوؤں کے متعلق نہیں کہتے ؟ یہ محض اکثریت میں ہونے کا نتیجہ ہے کہ تم ایسی