انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 435

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۵ چشمہ ہدایت نے وہ پڑھنی شروع کی تو اس کے بعد میرا دل بالکل صاف ہو گیا اور میں نے کہا کہ جا کر بیعت کرلوں۔تو مخالفت ایک رنگ میں مفید بھی ہو ا کرتی ہے اور ایک رنگ میں مضر بھی ہو ا کرتی ہے۔یعنی لوگ جوش میں آجاتے ہیں اور بعض دفعہ فساد کر نے لگ جاتے ہیں اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ سلسلہ کی باتیں سننے سے آئندہ محروم رہ جاتے ہیں۔پس ان دونوں نقطہ نگاہ سے ہمیں اپنے نظریئے تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔جو مخالفت کا نقطہ نگاہ ہے اس سے ہم کو اپنا یہ نقطہ نگاہ تبدیل کرنا پڑتا ہے کہ ہم جس چستی کے ساتھ اپنا لٹریچر لکھ رہے تھے ، جس طرز سے ہم اپنا لٹریچر لکھ رہے تھے، جس طرح ہم اس کی اشاعت کر رہے تھے ، جس طرح ہم تبلیغ کر رہے تھے ہم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ہم پرانے ڈگر پر چل سکیں اور اپنے پرانے طریق پر لوگوں تک پہنچ سکیں کیونکہ اب لوگوں کے دل ہماری نسبت انقباض محسوس کر رہے ہیں اور اب ہمیں ان تک پہنچنے کے لئے نئے طریقے اور نئی طرزیں ایجاد کرنی پڑیں گی۔اور جہاں تک لوگوں کو توجہ ہوتی ہے اس کے لحاظ سے ہمارے لئے سہولت پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ خود ہمارے گھروں تک پہنچتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے اس زمانہ میں بھی مخالفت کے باوجود کئی لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور وہ یہی بتاتے ہیں کہ ہم نے مخالفوں کی باتیں سنیں اور اس کی وجہ سے سلسلہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔دوسرا امر جو اس سال ہمارے لئے وجہ تشویش بنا رہا ہے یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں بسنے والی احمدی جماعتوں کے لئے بعض وجوہ کی بناء پر نئی نئی مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔تحریک جدید اس وقت ایک نازک دور میں سے گزر رہی ہے۔ہمارے جو مبلغین سالہا سال سے مختلف ممالک میں متعین ہیں اُن کے تبادلے کی وجہ سے ہمارا خرچ بہت بڑھ گیا ہے لیکن آمد میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔گو اس سال دوستوں نے وعدوں میں بھی اور وصولی میں بھی گزشتہ سال کی نسبت اچھا نمونہ دکھایا ہے لیکن ابھی اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے تاکہ تحریک پر قرض کا جو بار آ پڑا ہے اُسے اُتارا جا سکے۔دوست