انوارالعلوم (جلد 22) — Page 434
انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۳۴ چشمہ ہدایت اور یہ باتیں جو کہتے ہیں بالکل اور ہیں اور وہ ہدایت کو تسلیم کر لیتا ہے۔مجھے خوب یاد ہے میں چھوٹا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف رکھتے تھے مجلس لگی ہوئی تھی کہ ایک صاحب رام پور سے تشریف لائے۔وہ رہنے والے تو لکھنؤ یا اُس کے پاس کے کسی مقام کے تھے ، چھوٹا سا قد تھا، دُبلے پتلے آدمی تھے۔ادیب تھے، شاعر تھے اور اُن کو محاورات اُردو کی لغت لکھنے پر نواب صاحب رامپور نے مقرر کیا ہوا تھا ، وہ آ کے مجلس میں بیٹھے اور اُنہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ میں رام پور سے آیا ہوں اور نواب صاحب کا درباری ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ کو یہاں آنے کی تحریک کس طرح ہوئی ؟ اُنہوں نے کہا میں بیعت میں شامل ہونے کے لئے آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے۔اس طرف تو ہماری جماعت کا آدمی بہت کم پایا جاتا ہے، تبلیغ بھی بہت کم ہے ، آپ کو اس طرف آنے کی تحریک کس نے کی؟ تو یہ لفظ میرے کانوں میں آج تک گونج رہے ہیں اور میں آج تک اس کو بھول نہیں سکا حالانکہ میری عمر اُس وقت سولہ سال کی تھی کہ اس کے جواب میں اُنہوں نے بے ساختہ طور پر کہا کہ یہاں آنے کی تحریک مجھے مولوی ثناء اللہ صاحب نے کی۔میں تو شاید اپنی عمر کے لحاظ سے نہ ہی سمجھا ہوں گا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پر ہنس پڑے اور فرمایا۔کس طرح ؟ اُنہوں نے کہا مولوی ثناء اللہ صاحب کی کتابیں دربار میں آئیں۔نواب صاحب بھی پڑھتے تھے اور مجھے بھی پڑھنے کے لئے کہا گیا تو میں نے کہا جو جو حوالے یہ لکھتے ہیں میں ذرا مرزا صاحب کی کتابیں بھی نکال کر دیکھ لوں کہ وہ حوالے کیا ہیں۔خیال تو میں نے یہ کیا کہ میں اس طرح احمدیت کے خلاف اچھا مواد جمع کرلوں گا لیکن جب میں نے حوالے نکال کر پڑھنے شروع کئے تو ان کا مضمون ہی اور تھا۔اس سے مجھے اور دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے کہا کہ چند اور صفحے بھی اگلے پچھلے پڑھ لوں۔جب میں نے وہ پڑھے تو مجھے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کی شان اور آپ کی عظمت جو مرزا صاحب بیان کرتے ہیں وہ تو ان لوگوں کے دلوں میں ہے ہی نہیں۔پھر کہنے لگے مجھے فارسی کا شوق تھا۔اتفاقاً مجھے درنمین فارسی مل گئی اور میں