انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 428

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۲۸ چشمہ ہدایت کوئی عورت ہی بدا رادہ سے آئی ہوئی ہو تو اُس کی نگرانی نہیں کی جاسکتی اس لئے اُنہوں نے کہا ہم اپنا حق آپ چھوڑتی ہیں۔چونکہ میرا بھی گلا بیٹھا ہوا تھا اور مجھے نزلہ کی شکایت بھی تھی میں نے اس کو ایک الہی تحریک سمجھا اور بڑی خوشی سے اس کو قبول کیا کہ بہت اچھا اگر تم اپنا حق آپ چھوڑتی ہو تو پھر مجھے کیا عذر ہو سکتا ہے۔مگر اُنہوں نے یہ بھی ساتھ خواہش کی کہ مردوں کی تقریر میں کچھ ہمارے متعلق بھی کہا جائے تا کہ ہم وہیں سے لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ سے سُن سکیں۔حسب وعدہ میں دو چار منٹ یہ تقریر عورتوں کی طرف خطاب کر کے کرتا ہوں۔تبلیغ کی طرف توجہ کی ضرورت سب سے پہلے تو میں ان کو اپنی گزشتہ سال کی تقریر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے انہیں اب دین میں زیادہ حصہ لینے اور تبلیغ کی طرف توجہ کرنے کی تحریک کی تھی لیکن وہی منتظمات جنہوں نے مجھے تحریک کی ہے کہ میں عورتوں کو مخاطب کروں ، مردوں کی سیج سے میں انہی کو کہتا ہوں کہ سب سے پہلے اُنہوں نے ہی اپنی فرض شناسی سے گریز کیا ہے۔میں نے یہ تجویز کی تھی کہ عورتیں آزادی کی رو میں بہہ رہی ہیں اور نئی نئی امنگیں ان کے دلوں میں پیدا ہو رہی ہیں اس لئے تبلیغ کا میدان ان میں اس وقت زیادہ وسیع ہے بہ نسبت مردوں کے کیونکہ وہ اس وقت حکومت کے نشہ میں چُور ہو رہے ہیں اور مذہب سے بہت ہی دُور ہو رہے ہیں۔چنانچہ میری اس تحریک کے ماتحت مختلف اضلاع میں عورتوں کی پارٹیاں ربوہ سے بھیجی گئیں اور عورتوں کی مجالس جمع کی گئیں اور ان میں یہاں کی عورتوں نے جا کر لٹر پھر بھی تقسیم کیا اور تقریریں بھی کیں۔اب چاہئے یہ تھا کہ ۱۹۵۱ء میں اس سلسلہ کو وسیع کیا جاتا مگر جہاں تک میرا علم ہے اُن ضلعوں میں بھی دورہ نہیں کیا گیا جن میں پہلے کیا گیا تھا اور نئے ضلع تو بالکل ہی اس سوال سے باہر ہیں۔پس سب ے پہلے میں انہیں کہتا ہوں کہ تم نے جو مجھ سے حق مانگا ہے سٹیج پر سے تقریر کا اسی کے مطابق میں تمہیں کہتا ہوں کہ اپنے فرائض کی طرف توجہ کرو اور اس سستی اور غفلت کو چھوڑ دو۔