انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 415

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۱۵ واقعات ہر جگہ پر اور بار بار ہوتے رہیں گے۔جنگل کے درندے ابتدائے آفرینش سے آج تک لڑتے ہی چلے آئے ہیں۔انسانوں میں سے سچا انسان ہی صرف امن اور صلح سے رہنا جانتا ہے۔وہ بھی لڑنے پر مجبور ہوتا ہے مگر اس لئے کہ امن قائم کرے۔پس اگر ہم امن چاہتے ہیں تو خواہ صلح سے یا جنگ سے جس طرح بھی ہو ہمیں خدا تعالیٰ کی بادشاہت دُنیا میں قائم کرنی ہو گی۔اگر اس کے لئے ہمیں جنگ بھی کرنی پڑے تو وہ جنگ جنگ نہیں ہوگی ، وہ صلح کا پیغام ہو گا۔وہ امن کی آواز ہوگی۔مرضیں اُبھر پڑی ہیں۔بیماریاں ظاہر ہوگئی ہیں اور مرض کا ظاہر ہو جانا خوش قسمتی کی علامت ہے۔اے دُنیا کے سب سے بڑے طبیب روحانی سے منسوب ہونے والے لوگو! اٹھو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور سب دوسرے کاموں کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے ، اپنے مقصد اوّل کی طرف توجہ کرو۔دُنیا کا ہسپتال بیماروں سے پُر ہے۔دُنیا کا طبیب اعظم ہسپتال کے عملہ کو اپنی امداد کے لئے بلا رہا ہے۔کیا تم اس کی آواز پر لبیک نہیں کہو گے؟“ ( مكتبه سلطان القلم ربوہ ) ل السيرة الحلبية جلد ۲ صفحه ۳۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف كَانَ بدء الوحى إِلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم(الخ)