انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 414

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۱۴ ہجرت حملہ کیا۔مگر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ایسا کرنے والوں نے ایسا کیوں کیا ؟ کیا ان مہاجرین نے اپنی جائیدادیں ان سے چھین کر حاصل کی تھیں؟ کیا یہ مہاجرین غیر ملکی ٹیرے تھے جو مشرقی پنجاب میں زبر دستی آ گھسے تھے؟ کیا یہ مہاجرین مشرقی پنجاب کے ہندوؤں اور سکھوں کے ہمسائے نہ تھے ان کی خوشیوں اور غموں میں اُن کے شریک نہ تھے ؟ اُن کے جتھوں اور اُن کی دھڑا بازیوں میں شامل نہ تھے؟ کیا یہ آپس میں ایسے ملے ہوئے نہ تھے؟ کیا یہ عدالتی مقدمات میں سکھوں اور ہندوؤں کی گواہی میں بیسیوں مسلمان اُن کی طرف سے گواہ نہیں گزرتے تھے ؟ پھر ان پرانے ساتھیوں ، دوستوں اور ہمسایوں نے اپنے ہی جسم کے کاٹنے کے لئے کیوں تلوار اٹھائی ؟ اپنی ہی عزت و ناموس کو برباد کرنے کے لئے کیوں کھڑے ہو گئے ؟ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا ملک کیوں اُجاڑا ؟ یقینا کوئی گہری اور پوشیدہ اخلاقی بیماری ان کی رُوحوں کو لگی ہوئی تھی۔ان خدا کے بندوں کو شیطان چھین کر لے گیا تھا۔پس میں مشرقی پنجاب سے آنے والے سب لوگوں سے کہتا ہوں آؤ ہم بھی اپنے آ قا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں تہیہ کر لیں کہ اپنے آبائی وطن کو لوٹیں گے اور ضرور لوٹیں گے لیکن بغض اور کینہ اور انتقام کے جذبہ کے ساتھ نہیں بلکہ انسانیت اور روحانیت کے تقاضوں کے جواب میں اور ہمدردی اور محبت کے جذبات لئے ہوئے۔ان واقعات نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ، ان واقعات نے ہمیں بتا دیا ہے کہ انسان کی ظاہری شکل تو وہی ہے جو پہلے تھی مگر اس کا باطن بدل چکا ہے۔انسان کے جسم میں وحشی درندوں کی روحیں داخل ہو گئی ہیں۔آؤ! ہم بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح عزم کر لیں کہ ہم ان وحشی اور درندہ روحوں کو اپنے بھائیوں کے جسم سے نکال دیں گے۔ہم ضرور اپنے وطنوں کو جائیں گے۔اس لئے نہیں کہ اپنی حکومت وہاں قائم کریں بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت وہاں قائم کریں۔جس طرح ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔جب تک خدا تعالیٰ کی حکومت مشرقی پنجاب کیا ساری دُنیا میں قائم نہ ہوگی ، بہار، نواکھلی، امرتسر ، گورداسپور ،لدھیانہ، جالندھر، پٹیالہ، کپورتھلہ کے