انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 404

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۰۴ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔گیا ہے کہ آپ کوئی فضول اور بے نتیجہ کام کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔آپ وہی کام کرتے تھے جس کا کوئی فائدہ ہو۔خواہ مادی خواہ قانونی یا اخلاقی۔اور یہ ایک بہت زبر دست پاکیزہ فطرت پر دلالت کرنے والی بات ہے۔قرآن کریم ایک دوسری جگہ فرماتا ہے ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے، نطفہ سے ہم نے علقہ پیدا کیا اور علقہ سے مُضغہ بنایا۔مضغہ سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا اور اس کے بعد اس کے اندر ایک اہم تغیر کر کے روح پیدا کی ہے لیکن اس آیت کے ایک تحت اسطح معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ عربی محاورہ میں خُلِقَ مِنْ شَيْءٍ کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ اس کی فطرت میں یہ چیز رکھی گئی ہے مثلاً وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ طِينٍ کے معنے ہوں گے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے لیکن جب مِنْ عَجَلٍ “ کے آ جائے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ ہم نے انسان کو جلدی سے پیدا کیا ہے۔جلدی کوئی مادہ تو نہیں کہ اسے گھولا اور انسان پیدا کر دیا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کی فطرت میں مجلت رکھی گئی ہے۔پس جہاں علق کے ایک معنے یہ تھے کہ ہم نے انسان کو اس حالت سے پیدا کیا ہے کہ وہ رحم سے چمٹا ہوا تھا وہاں اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے انسان کی فطرت میں محبت اور علاقہ کا مادہ رکھا ہے۔جیسے ”من عجل “ کے عربی محاورہ کے رو سے معنے ہیں کہ انسان کے اندر عجلت رکھی گئی ہے۔پس خَلَقَ الانسان مِنْ عَلَقٍ کے ایک معنے یہ ہیں کہ انسان کی فطرت میں یہ مادہ رکھا گیا ہے کہ وہ کسی کا ہو رہے۔شعراء اور صوفیا کا خیال بھی یہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پنجابی کا ایک مصرعہ سُنایا کرتے تھے جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہا لیکن اُس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو تو کسی کا ہو جایا کوئی تمہارا ہو جائے۔پس خَلَقَ الانسان من علق کے یہ معنے بھی ہیں کہ ہم نے انسانی فطرت میں محبت اور علاقہ کا مادہ رکھا ہے۔ہم نے اسے اسی حالت پر پیدا کیا ہے کہ وہ کسی کا ہو رہے۔اس لئے اے رسول ! تو دوسرے لوگوں کے پاس جا اور اس بات کا خیال نہ کر کہ بظاہر حالات وہ تیرے پیغام کو نہیں سنیں گے کیونکہ ہم نے انسان کی فطرت میں یہ چیز رکھ دی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ہو کر رہنا چاہتا ہے۔بے شک جب تک