انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 403

انوار العلوم جلد ۲۲ ۴۰۳ رسول کریم ﷺ کا بلند کردار اور اعلیٰ صفات قرآن مجید سے۔۔والا اور تربیت کرنے والا ہوں اور جن لوگوں کی طرف بھجوا رہا ہوں وہ بھی میرے ہی پیدا کئے ہوئے ہیں۔ان کے بارہ میں رَبِّهِمُ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ قرآنی پیغام سے پہلے خدا تعالیٰ کی کامل ربوبیت تلے نہیں آئے تھے بلکہ صرف خلق کی صفت کے نیچے آتے تھے۔اگر خالی یہ کہا جاتا کہ اقرا باسم رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ تو اس سے قبہ ہو سکتا تھا کہ شاید لوگوں پر جبر کیا جا رہا ہے۔آخر خدا تعالیٰ کو انہیں حکم دینے کا کیا حق ہے۔پس الَّذِي خَلَق کے الفاظ زائد کر کے بتا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا محمد رسول اللہ پر اگر خالق و رب ہونے کا حق ہے تو دوسرے لوگوں پر خالق ہونے کا حق تو واضح ہے۔گورب ہونے کا حق ابھی مخفی ہے۔جب تم خدا کے پیغامبر ہو کر ان تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا دو گے تو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کامل طور پر ان کی طرف بھی منتقل ہو جائے گی۔گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کا اِن الفاظ میں نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ آپ بلا دلیل بات کو سُننے کے لئے کسی حالت میں تیار نہ تھے۔اس مرحلہ کے بعد اب ایک اور مرحلہ پیش آتا ہے۔بے دلیل بات نہ کرنے کے علاوہ فطرت صحیحہ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ کوئی بے نتیجہ کام اُس سے نہ کروایا جائے۔مانا کہ خدا تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ انسان کو حکم دے مگر کیا اس کے حکم کو ماننے کا کوئی امکان ہے؟ اگر اس کے ماننے کا کوئی امکان ہی نہیں تو یہ بے نتیجہ کام کیوں کیا جائے۔اگلی آیت اس مشبہ کا ازالہ کرتی ہے۔اس میں فرمایا گیا ہے کہ خُلَقَ الْانْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - انسان کے اندر تعلق باللہ کا مادہ رکھا گیا ہے اس لئے خواہ تیرے مخاطب کتنے ہی تقویٰ اور خوف خدا سے دُور پڑے ہوئے ہوں فطرتاً ان کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کوٹیں اور اُس سے محبت کریں۔پس ظاہری حالات کے لحاظ سے یہ پیغام کتنا ہی کامیابی سے دُور نظر آتا ہے حقیقتا ناممکن نہیں بلکہ اس کے کامیاب ہونے کے مخفی اور فطری سامان موجود ہیں۔بظاہر تو اس دلیل میں انسانی فطرت کی پاکیزگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر باطناً اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فطرت کے اس پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا