انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 386

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۸۶ خدام ہر جگہ مجالس قائم کریں اور چندہ کو منظم کریں نہ دیا گیا تو مجھے شک پڑا اس لئے میں نے کہا پچھلے حوالے لاؤ۔جب وہ حوالے لائے گئے تو معلوم ہوا کہ پچھلے سال بیرون جات سے ۵۹۰ خدام آئے تھے اور اس سال ۵۵۵ خدام آئے ہیں۔پچھلے سال بیرونی جماعتوں کی نمائندگی ۳ے تھی لیکن اس سال صرف ۵۴ مجالس کے نمائندے آئے ہیں۔گویا اس سال پہ کی کمی آ گئی بلکہ تم سے کچھ زیادہ کی کمی ہے۔یہ حالت تسلی بخش نہیں۔ہونا یہ چاہئے تھا کہ چند نمائندے زیادہ آتے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر واقعہ میں اپنے فرائض کو ادا کیا جاتا اور خدام اپنے وعدے پورے کرتے تو اس سال سینکڑوں نئی جگہوں میں جماعتیں قائم ہو جاتیں۔اور اگر ان نئی جماعتوں میں سے دس فی صدی جماعتوں کے نمائندے بھی یہاں آتے تو پچھلے سال مجالس کی نمائندگی جو تھی اب ۱۰۰ ہو جاتی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدام نے صحیح طور پر اپنے فرائض کو ادا نہیں کیا۔ایک اور چیز جس کا رپورٹ میں ذکر نہیں کیا گیا وہ یہ ہے کہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سال کتنی نئی مجالس قائم ہوئی ہیں اور ان نئی مجالس میں سے کتنی مجالس کے نمائندے یہاں آئے ہیں۔پچھلے سال میں نے کہا تھا کہ ہر گاؤں اور ہر شہر میں مجالس قائم کرو اس لئے چاہئے تھا کہ مجلس عاملہ مجھے بتاتی کہ پچھلے سال گل تعداد مجالس کیا تھی اور اب کیا ہے۔مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ اس سال ۲۹ نئی مجالس قائم ہوئی ہیں۔اگر یہ بات درست ہے تو پچھلے سال ۲۹ مجالس کم تھیں لیکن ۷۳ مجالس کے نمائندے اجتماع پر آئے تھے اب ۲۹ مجالس زیادہ بھی ہوگئی ہیں لیکن صرف ۵۴ مجالس کے نمائندے یہاں آئے ہیں۔اگر ان مجالس میں سے پانچ سات مجالس بھی ایسی ہیں جو اس سال نئی قائم ہوئی ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ پرانی مجالس میں سے ۴۵ یا ۴۶ مجالس کے نمائندے آئے۔اس طرح حاضری میں کوئی ۴۰ فیصد کی کمی آگئی اور یہ بات نہایت افسوسناک ہے۔اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہ کام مجلس عاملہ کا ہے اُسے اس طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔اس سال سوائے لڑائی اور شکایتوں کے مجلس عاملہ نے کوئی کام نہیں کیا۔آپس کے جھگڑوں پر اس نے وقت ضائع کیا ہے اصل کام کی طرف توجہ نہیں کی۔لیکن جہاں یہ بات