انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 382

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۸۲ خدام ہر جگہ مجالس قائم کریں اور چندہ کو منظم کریں اور اس کے حالات کو یا د رکھتی ہیں وہ اپنے آپ کو اُس کے مطابق بنانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم گرم ملک والے ٹھنڈے ملک والے حاکموں کے ماتحت ایک لمبا عرصہ گزار چکے ہیں اور اُن کو آسائش اور آرام کے لئے جو سامان کرتے ہم نے دیکھا اور اُس میں ہمیں بعض فوائد نظر آئے ہم نے اُن کی نقل شروع کر دی۔اب ہم واقعات سے اتنے مجبور ہو گئے ہیں کہ خواہ ان سے بچنے کی کتنی کوشش کریں ان سے بچ نہیں سکتے۔ورنہ عرب اور افریقہ کے لوگ جن کے ملک میں اتنی گرمی پڑتی ہے کہ ہمارے ملک کی گرمی اُس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں وہ دھوپ میں بہت اچھی طرح چلتے پھرتے ہیں اور گرمی کا انہیں احساس بھی نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ملک کے حالات کو دیکھا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جب اُنہوں نے عرب اور افریقہ جیسے گرم ممالک میں بودو باش اختیار کی ہے تو اُنہوں نے اپنی روزی بھی وہیں سے تلاش کرنی ہے اس لئے اُنہوں نے بچپن سے ہی ایسی عادات پیدا کر لی ہیں کہ وہ گرمی برداشت کر لیتے ہیں لیکن ہمارے ملک کے لوگوں نے ملکی حالات کے مطابق اپنے حالات نہیں بنائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک پر جو لوگ حاکم تھے اُنہوں نے جب اپنے آرام کے لئے پنکھوں کا انتظام کیا تو یہ خیال کیا کہ اگر اُنہوں نے اپنے ماتحت کلرکوں کے لئے ایسا انتظام نہ کیا اور اُن کے کمروں میں بجلی کے پنکھے نہ لگوائے تو کام پوری طرح نہیں ہو گا اس لئے اگر چہ اُنہوں نے بجلیاں اپنے کام کے لئے چلائیں لیکن بجلی کے پنکھے اُنہوں نے کلرکوں کے کمروں میں بھی لگا دیئے حالانکہ پٹھانوں ، مغلوں اور دوسرے راجوں مہاراجوں کے زمانہ میں یہاں بجلیاں نہیں تھیں وہ انہی ملکوں میں رہتے تھے۔یہاں گرمی پڑتی تھی اور وہ لوگ اس میں رہنے کی مشق کرتے تھے، اس وجہ سے انہیں گرمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔آہستہ آہستہ جب ہم اپنے ملک کے حالات کو سدھاریں گے یا ہمارا ملک سُدھر جائے گا تو یہ دونوں باتیں ممکنات میں سے ہو جائیں گی۔یا تو انگریزوں کے جانے کے بعد لوگ آرام و آسائش کے خیال کو چھوڑ دیں گے اور وہ افریقہ اور عرب جیسے ٹرو پیکل کنٹر (Tropical Countr) کی طرح گرمی کو اپنالیں گے اور اسے