انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 344

انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۴۴ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو جائے گا کیوں؟ وہ قرآن پر غور کرے گا اور اُسے وہ کچھ ملے گا جو اُسے دوسری کتابوں میں مل سکتا ہی نہیں۔تب اُس کی زندگی دوسروں سے زیادہ اعلیٰ ہوگی اور وہ ان میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہوگا۔بے شک بعض مجبوریوں کی وجہ سے اسے بھی یو نیورسٹیوں میں پڑھنا پڑے گا مگر اس کو آخری ڈگری دینے والا کوئی چانسلر نہیں ہوگا ، کوئی گورنر نہیں ہوگا، کوئی وزیر نہیں ہوگا بلکہ اسے آخری ڈگری دینے والا خدا ہوگا۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ڈگری کے مقابلہ میں انسانوں کی ڈگری کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔غرض یہ کالج میں نے اس لئے کھولا ہے کہ اب دین اور دنیا کی تعلیم چونکہ مشترک ہو سکتی ہے اس لئے اسے مشترک کر دیا جائے۔اس کا لج میں پڑھنے والی دو قسم کی لڑکیاں ہوسکتی ہیں۔کچھ تو وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دُنیاوی کام کریں اور کچھ وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کی خدمت کریں۔میں دونوں سے کہتا ہوں کہ دینی خدمت بھی دُنیا سے الگ نہیں ہو سکتی اور دُنیا کے کام بھی دین سے الگ نہیں ہو سکتے۔اسلام نام ہے خدا تعالیٰ کی محبت اور بنی نوع انسان کی خدمت کا۔اور بنی نوع انسان کی خدمت ایک دنیوی چیز ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی محبت ایک دینی چیز ہے۔پس جب اسلام دونوں چیزوں کا نام ہے اور جب وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دُنیا کا کام کرے اور وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کا کام کرے اور دونوں اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لڑ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دُنیا کا کام کرے اُسے معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنا بھی دین کا حصہ ہے اور جولڑ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دین کا کام کرے اُسے معلوم ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصہ ہے پس دونوں کا مقصد مشترک ہو گیا۔جو دینی خدمت کی طرف جانے والی ہیں اُنہیں یا درکھنا چاہئے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔دین کے معنی صرف سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللہ کرنے کے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنے اور ان کے دُکھ درد کو دور کرنے میں حصہ لینے کے بھی ہیں۔اور جولڑ کیاں دُنیا کا کام کرنا