انوارالعلوم (جلد 22) — Page 314
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۱۴ اپنے اندر سچائی ،محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو پھر اُس سے بڑا پہاڑ ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ انسان اُس کی چوٹی پر چلا جاتا ہے۔تم کبھی یہ نہیں دیکھو گے کہ انسان ایک ہی دفعہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائے۔یہی وہ انسان سے امید رکھتا ہے کہ جب وہ ایک نیکی کرے تو پھر اس سے بڑی نیکی کرے، پھر اس سے بڑی نیکی کرے۔اور کامیاب وہی انسان ہوتا ہے جو ایک جگہ پر ساکن نہ ہو جائے بلکہ جب وہ ایک مقصد کو حاصل کرلے تو اُس سے بڑے مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے لگ جائے۔وہ ایک چھوٹی نیکی کر کے ٹھہر نہیں جاتا بلکہ وہ ہر روز ایک نیا پروگرام تیار کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ پہلے سے آگے نکل جاؤں۔اور جب کوئی انسان اس قسم کا پروگرام تیار کرتا ہے تو یقیناً اُس کا فکر ترقی کرتا ہے ، اُس کا عمل وسیع ہوتا ہے اور ہر کامیابی پر اُس کا حوصلہ بھی وسیع ہوتا ہے۔اس وقت میں ان چار نصاح پر تقریر ختم کرتا ہوں۔نصائح تو اور بھی ہیں لیکن بہر حال میں نے اپنی تقریر ختم کرنی ہے۔چاہئے کہ تم یہ چاروں باتیں ہمیشہ اپنے مد نظر رکھو۔میں نے یہ نہیں کہا کہ تم سچ بولو بلکہ میں نے کہا ہے کہ تم ایسے دوست بناؤ جو ہمیشہ سچ بولیں۔میں نے کہا ہے کہ تم محنت کی عادت ڈالو۔اپنے اندر قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرو۔اپنے مطمح نظر کو اونچا رکھو۔یہاں تک کہ مطمح نظر ہمیشہ بلند سے بلند تر ہوتا روزنامه الفضل ربوہ مورخہ ۲۷، ۲۸ ، ۲۹ راپریل ۱۹۶۱ء) چلا جائے۔66 آل عمران : ۵۴ المعجم الكبير جلد ۲ صفحه ۶۰ مكتبة العلوم و الحكم الطبعة الثانية ١٩٨٣ء سے تاریخ ابن اثیر جلد ۴ صفحه ۱۳۰۔مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء المعجم الکبیر جلد 4 صفحہ ۲۲۸ مطبوعہ بغداد ۱۹۷۹ ء کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے۔