انوارالعلوم (جلد 22) — Page 313
انوار العلوم جلد ۲۲ ۳۱۳ اپنے اندر سچائی ، محنت اور ایثار کے اوصاف پیدا کرو گویا جو فیل ہو جاتا ہے وہ کوشش کرتا ہے تا دوبارہ کامیاب ہو جائے لیکن جو کامیاب ہو جاتا ہے وہ ساکن ہو جاتا ہے۔اس لئے کہ اس کے سامنے تگ و دو کا میدان نہیں رہتا۔اسلام اسے جائز قرار نہیں دیتا۔اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے غیر متناہی ترقیات کا سلسلہ کھلا رکھا ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے غیر متناہی ترقیات کا سلسلہ کھلا رکھا ہے تو کوئی ترقی ایسی نہیں ہو سکتی جس کے آگے ترقی کرنے کا مقام نہ ہو۔انسان کو ہمیشہ اپنا پر وگرام بدلتے رہنا چاہئے۔جو ہڑ کے پانی کی طرح ساکن ہو جانا قوم کے لئے مفید نہیں ہوتا۔کھڑا پانی سڑ جاتا ہے اور اُس میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح اگر کسی قوم کے افراد ایک جگہ پر پہنچ کر ساکن ہو جاتے ہیں تو وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔پس مطمح نظر کا اونچا کرتے چلے جانا قومی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں۔نِيَّةُ المُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ کے مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہوتی ہے۔یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن اپنے اندر ایک بہت بڑا مد عا لئے ہوئے ہے۔مومن کی نیت ہمیشہ اُس کے عمل سے بہتر ہوگی۔اس کے دو معنے ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ انسان کی نیت بھی اچھی ہو اور اُس کے اعمال بھی اچھے ہوں لیکن اُس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ پہلے سے بڑھ کر نیک اعمال کرے گا۔دوسرے یہ کہ اُس کی نیت اچھی ہو لیکن اعمال بُرے ہوں اور ارادہ یہ ہو کہ وہ اپنی اصلاح کرے گا اور پھر جوں جوں وہ کام کرتا جائے اپنی نیت کو بھی بلند کرتا جائے۔جب وہ ایک روزہ رکھتا ہے تو اس کے بعد دوسرا روزہ رکھتا ہے، پھر تیسرا روزہ کی رکھتا ہے۔جب وہ ایک دن روزہ رکھتا ہے اور اُس کی شام قریب آتی ہے تو وہ دوسرے روزے کی نیت کرتا ہے اور جب تیسرے روزے کی شام قریب آتی ہے تو وہ چوتھا روزہ رکھتا ہے اور یہ ارادہ رکھتا ہے کہ کوئی دوسری نیکی کروں۔مثلاً صدقہ دوں اور جب وہ صدقہ کرتا ہے تو کسی اور نیکی کی نیت کر لیتا ہے اس طرح اُس کی نیت عمل پر سبقت لے جاتی ہے۔غرض انسان کا ارتقائی پروگرام ہونا چاہئے جو اونچے سے اونچا ہوتا چلا جائے۔خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ پہلے ایک چھوٹا پہاڑ ہوتا ہے پھر اُس سے بڑا پہاڑ ہوتا ہے،