انوارالعلوم (جلد 22) — Page 280
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۸۰ سیر روحانی (۵) نے اپنے دل کی بات کہہ دی تو نہ معلوم بادشاہ اس کو مانے یا نہ مانے۔مگر اس الہی دربار کی عجیب شان ہے اس دربار عام کے بارہ میں فرماتا ہے يستله من في السمواتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ ۲۴ فرماتا ہے آسمان کا رہنے والا ہو یا زمین کا رہنے والا ہر ایک اپنی ضرورت خدا تعالیٰ سے مانگتا ہے۔یہاں سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ کیا آدمی کی ہر ضرورت پوری ہو جاتی ہے؟ اس کے متعلق فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ في شان نہ صرف ہر مانگنے والے کی ضرورت کو پورا کرتا ہے بلکہ ہر روز وہ نئی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے ایک نئی شان میں جلوہ گر ہوتا ہے۔پہلے بندہ کہتا ہے خدایا! مجھے فلاں چیز چاہئے اور خدا تعالیٰ اسے وہ چیز دے دیتا ہے۔پھر وہ اور چیز مانگتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے وہ چیز بھی دے دیتا ہے اس طرح وہ مانگتا چلا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے دیتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ہر روز ایک آخر مانگتے مانگتے اسے خیال آتا ہے کہ اب میں کیا مانگوں؟ میں نے تو اس سے بہت کچھ مانگ لیا ہے نئی شان سے جلوہ گری اللہ تعالٰی اس کی طرف دیکھتا ہے اور فرماتا ہے آج تو ہم ایک نئی شان میں تمہارے سامنے جلوہ گر ہوئے ہیں پچھلی ضرورتوں کا خیال جانے دو اب ہم سے اور مانگو ہم تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں۔پہلے تم نے اُس شان کو دیکھا تھا جو گزر چکی اب تم ہماری اس نئی شان کا مشاہدہ کرو اور جو کچھ مانگنا چاہتے ہو مجھے سے مانگو۔غرض یہ دربار عام وہ ہے جس میں سب مانگتے ہیں، ہر روز ما نگتے ہیں اور ہر روز انہیں نئے انعام ملتے ہیں دُنیوی اور اُخروی ترقیات کا ایک تسلسل جاری ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔علوم قرآنیہ کے انکشاف کا کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں دنیا کے دروازہ کبھی بند نہیں ہو سکتا : سامنے آتا ہے اور ہر روز وہ نیا احسان دنیا پر کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے مگر آج وہی مسلمان جن کی کتاب میں یہ تعلیم موجود تھی جو دنیا کی کسی