انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 258

انوار العلوم جلد ۲۲ ہو ۲۵۸ سیر روحانی (۵) لا تقنطوا من رحمة الله تمہارا با دشاہ حقیقی جس نے مجھے گورنر جنرل مقرر کر کے بھیجا ہے اُس کی رحمت بہت وسیع ہے پس تمہارے لئے اُس کی رحمت سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا گورنمنٹیں تو یہ اعلان کرتی ہیں کہ دورانی مہینے یا چھ مہینے یا سال تک کی جن لوگوں کو سزا دی گئی ہے اُن کی قید معاف کی جاتی ہے یا وہ مجرم جو اخلاقی ہیں اُن کو معاف کیا جاتا ہے یا بعض پولیٹیکل مجرموں کو معاف کیا جاتا ہے مگر ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ تمہارا خدا تمام قسم کے گناہوں کو چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے لیکر بڑے سے بڑے گناہ تک خواہ وہ اخلاقی ہوں یا مذہبی ہوں یا سیاسی ہوں سب کو معاف کر سکتا ہے پس تمہارے لئے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔یہ کتنا عظیم الشان اعلان ہے جو اسلام نے دنیا کے سامنے کیا ہے۔کیا تو بہ سے گناہ بڑھتے عیسائی کہتے ہیں کہ اسلام نے گناہ بڑھا دیا ہے کیونکہ اسلام اس تعلیم کا حامل ہے کہ تو بہ سے انسان کے گناہ ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ معاف ہو جاتے ہیں۔حالانکہ عیسائیت خود کہتی ہے۔کہ خدا محبت ہے اور عیسائیت خود کہتی ہے کہ محبت سے دل صاف ہوتے ہیں۔جب محبت اور پیار سے دل صاف ہوتا ہے تو تو بہ سے گناہ کس طرح بڑھ سکتا ہے؟ احادیث میں آتا ہے قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے ایک مجرم پیش ہو گا اُس سے کچھ سوالات کئے جائیں گے جن کا وہ جواب نہیں دے سکے گا مگر آخر اُس کے دل کی کسی مخفی نیکی کی وجہ سے خدا تعالیٰ اسے معاف کر دیگا اور اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ دیکھو! میرے اس بندے نے فلاں گناہ کیا تھا اُس کے بدلہ میں اسے یہ انعام ملے۔اس سے فلاں قصور سرزد ہو ا تھا اس کے بدلہ میں اسے یہ انعام دیا جائے۔مگر اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کا ذکر نہیں کرے گا صرف چھوٹے چھوٹے گناہوں کے ذکر پر ہی اکتفا کرے گا۔جب اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ دیکھو! اس نے فلاں موقع پر پتھر مارا تھا اس کے بدلہ میں اسے یہ انعام دو۔اس نے فلاں گالی دی تھی اس کے بدلہ میں یہ انعام دو۔اور اللہ تعالیٰ اس کے بعد خاموش ہو جائیگا تو وہ شخص ادب کے ساتھ کہے گا کہ