انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 257

انوار العلوم جلد ۲۲ بھی دلیل کے ساتھ ہوگی۔۲۵۷ سیر روحانی (۵) غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ جاءَ الْحَقُّ دلائل کے زور سے گھر کی شکست وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ b زهوگان هم تلوار کے وار سے نہیں بلکہ دلیل کے زور سے کفر کو مٹائیں گے اور گفر اس لئے شکست کھائے گا کہ صداقت روشن ہو جائے گی اور جب صداقت روشن ہو جائے تو گفر اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا جیسے دنیا میں جب سورج چڑھتا ہے تو ڈنڈے مار مار کر ظلمت کو دُور نہیں کیا جاتا بلکہ سورج کی شعاعیں ظلمت کو آپ ہی آپ دور کر دیتی ہیں۔قیدیوں کی آزادی کے اعلانات (۷) پھر دنیوی گورنمنٹوں کی طرف سے بعض دفعہ اعلانات کئے جاتے ہیں کہ بادشاہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اس خوشی میں اتنے قیدی رہا کئے جاتے ہیں یا فلاں شہزادہ کی شادی ہوئی ہے اس خوشی میں اتنے مجرموں کو رہا کیا جاتا ہے یا فلاں جشن مسرت منایا جا رہا ہے ، اِس خوشی میں اتنے قیدی آزاد کئے جاتے ہیں۔میں نے سوچا کہ کیا ہمارے دربار میں بھی کوئی قیدی آزاد کئے جاتے ہیں یا نہیں؟ جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ دُنیوی گورنمنٹوں کی طرف سے تو صرف بعض قیدی چھوڑے جاتے ہیں لیکن اس دربار عام میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا گورنر جنرل مقرر کرتے ہیں اور اسے اختیار دیتے ہیں کہ وہ ہماری طرف سے تمام گنہگاروں اور قیدیوں کی آزادی کا اعلان کر دے وہ فرماتا ہے قُل يعِبَادِي الذين آشرفُوْا عَلَ أنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَ أَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا له مِن قَبْلِ أنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ۲۵ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے تم کو اس دنیا کا گورنر جنرل مقرر فرمایا ہے تم جاؤ اور ہماری طرف سے یہ اعلان کر دو کہ اے میرے بندو! الّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى انفسهم جنہوں نے گناہوں کو کمال تک پہنچا دیا یعنی کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے چھوڑا