انوارالعلوم (جلد 22) — Page 247
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۴۷ سیر روحانی (۵) حکومتیں اپنے قانون کے خلاف ورزی کرنیوالوں کو سزائیں دیتی ہیں اور انہیں جیل خانوں میں بند کر دیتی ہیں مگر خدائی گورنمنٹ یہ اعلان کرتی ہے کہ اگر تم ہمارے قانون کی کے ماننے سے انکار بھی کرو گے تب بھی ہم تمہیں رزق دیتے چلے جائیں گے اور تمہیں اُن فوائد سے محروم نہیں کریں گے جو ہماری حکومت سے سب لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں۔اور اگر تم ہمارے قوانین کو تسلیم کرو گے تو تم بادشاہ کے محبوب بن جاؤ گے فرماتا ہے قل إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله اے ہمارے رسول ! تو لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ میں تو اس قرآن پر عمل کر کے اور اس کی تعلیم کو مان کر خدا تعالیٰ کا پیارا بن گیا ہوں اگر تم بھی چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے محبوب بنو تو تم میرے نقش قدم پر چل پڑو خدا تعالیٰ تم سے بھی محبت کرنے لگ جائے گا اور تمہیں بھی اپنا محبوب بنالے گا۔دنیوی بادشاہوں کا طریق عمل دنیوی بادشاہ جب کسی قانون کا اعلان کرتے ہیں تو اس قانون کی فرمانبرداری کرنے والوں کو کبھی کوئی انعام نہیں ملتا۔کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کسی شخص کو اس لئے انعام ملا ہو کہ اُس نے چوری نہیں کی ، یا کسی شخص کو اس بات پر انعام ملا ہو کہ وہ سڑک کے بائیں طرف اپنا موٹر چلایا کرتا تھا ؟ ہاں یہ نظارہ دیکھنے میں ضرور آتا ہے کہ کسی کو ذیلدار بنا دیا گیا محض اس لئے کہ جب ڈپٹی صاحب دورے پر آتے ہیں تو وہ لوگوں کی مُرغیاں چرا چرا کر انہیں کھلاتا ہے۔پھر جو خطاب ملتے ہیں اُن کا حقیقت کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا۔خطاب ملتا ہے خان بہادر اور خان بہادر صاحب کی اپنی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر چوہا بھی چیں کرے تو اُن کی جان نکل جاتی ہے۔گویا خطاب ملتے ہیں تو جھوٹے اور خطاب ملتے ہیں تو انصاف کے خلاف۔نہ خطاب کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ انصاف کے ساتھ کوئی تعلق ہوتا ہے۔جتنے خطاب لینے والے ہوتے ہیں اگر ان کے حالات پر غور کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہیں خطاب محض اس وجہ سے دیئے گئے ہیں کہ وہ افسروں کو شکار کھیلاتے رہے ہیں یا مرغابیاں مار مار کر ان کے لئے لاتے رہے ہیں۔