انوارالعلوم (جلد 22) — Page 240
انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۴۰ سیر روحانی (۵) ہے جس کے پیچھے خدا تعالیٰ بیٹھا ہے۔بے شک سائنس بھی اپنی ذات میں ایک مفید چیز ہے، جغرافیہ، حساب اور تاریخ بھی اپنی ذات میں مفید علوم ہیں مگر ان علوم کی وادی چلتے چلتے ایک طرف خم کھاتی ہے اور اس کے موڑ کے پیچھے خدا تعالیٰ کا وجود رونما ہوتا ہے۔تم بے شک ان علوم میں ترقی کرو مگر یہ بھی دیکھو کہ اس مادی دنیا کے علاوہ خدا تعالیٰ کی بھی ایک ذات ہے جس کا حصول تمہارا سب سے بڑا مقصد ہونا چاہئے۔پس قرآن کریم انسانی عقلوں کو موڑ کر انہیں خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے والی کتاب ہے اور یہی بات مَثَانِی میں بیان کی گئی ہے۔قرآنی تعلیم کے ذریعہ مَثَانِی کے تیرے نے قُوَّةَ الشَّيْءِ وَ طَاقَتُهُ کے ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کی قوت اور اس کی طاقت۔غیر معمولی طاقت کا حصول فرماتا ہے قرآن کریم کی آیتیں اور قرآن کریم کی تعلیم تمہاری قوت اور طاقت کا موجب ہیں یعنی قرآن کریم پر عمل کرنے والے ہمیشہ دُنیا پر غالب رہیں گے اور کسی جگہ نیچا نہیں دیکھیں گے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ سچ بولو۔دنیا میں کبھی سچ بولنے والے ذلیل نہیں ہو سکتے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ علم سیکھو دنیا میں کبھی علم سیکھنے والا ذلیل نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ دھو کا مت دو۔دھوکا اور فریب سے بچنے والا دنیا میں کبھی ذلیل نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم کہتا ہے کہ تم علوم طبیعیات پر غور کرو اور قدرت کے رازوں کی جستجو کرو۔علوم طبیعیات پر غور کرنے والا اور قدرت کے رازوں کی جستجو کرنے والا دنیا میں کبھی ذلیل نہیں ہو سکتا۔غرض جو کچھ قرآن کریم کہتا ہے وہ انسان کی طاقت کا موجب ہوتا ہے اُس کی کمزوری کا موجب نہیں ہوتا۔یہی وہ چیز ہے جس کا قرآن کریم ایک اور جگہ ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے رُبمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُ والوَكَانُوا مُسلمین کہ کافر بھی بعض دفعہ کہہ اُٹھتا ہے کہ کاش ! مجھے اسلام کا نام نہ ملتا تو اس کی تعلیم ہی مل جاتی۔یہود کا اعتراف عجز ایک دفعہ بعض یہودی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا آپ کے قرآن میں ایک ایسی آیت