انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 239

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۳۹ سیر روحانی (۵) قرآن کریم کا کمال تو پہلے پہل اگر کوئی شخص آ جائے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی دوسرا ڈاکٹر یا مقنن یا انجینئر نہ ہو تو ایک معمولی آدمی بھی لوگوں پر اپنی حکومت جما لیتا ہے لیکن پہلوں کے مقابل پر آ کر کامیاب ہونا بہت بڑی ہمت چاہتا ہے۔قرآن کریم اسی مضمون کی طرف لوگوں کو توجہ دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہم پہلوں کی موجودگی میں آکر کامیاب ہوئے ہیں۔تم اپنی طرح یہ نہ سمجھ لو کہ ملک میں کوئی حکومت نہ تھی، کوئی قانون نہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے آکر ایک تعلیم دی اور لوگوں نے اسے مان لیا، ایران میں کوئی قانون نہ تھا زرتشت آئے اور انہوں نے اپنا اقتدار قائم کر لیا، اکیلے اکیلے میدان مار لینا اور بات ہے اور مقابلہ میں آ کر میدان جیتنا اور بات ہے۔ہم بعد میں آئے اور پھر ان کی چھاتیوں پر مونگ دل رہے ہیں۔عیسائیوں کی کتابیں موجود ہیں ، یہودیوں کی کتابیں موجود ہیں، زرتشتیوں کی کتابیں موجود ہیں ، ہندوؤں کی کتابیں موجود ہیں مگر پھر ہم ان سب کے سامنے آ کر میدان مار رہے ہیں۔مَثَانِی کے دوسرے معنے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے والی کتاب مَعَاطِفُ الْوَادِي کے ہیں چلتے چلتے جب وادی ایک طرف مڑتی ہے تو اُس کے موڑ کو بھی مثانی کہتے ہیں۔پس قرآن کریم کی دوسری خوبی اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ یہ بنی نوع انسان کو موڑ کر ان کا رخ ایک دوسری طرف پھیرنے والی کتاب ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بنی نوع انسان جب علوم میں ترقی کرتے ہیں تو ان کا نقطۂ نگاہ صرف دنیا کا حصول ہوتا ہے وہ جغرافیہ میں یا سائنس یا تاریخ میں جب دسترس پیدا کرتے ہیں تو ان کا نقطۂ نظر صرف مادی ہوتا ہے اور وہ اُسی مادی راستے پر چلتے چلے جاتے ہیں۔قرآن کریم نے ان راستوں سے بنی نوع کی انسان کو روکا نہیں۔وہ حساب کی بھی تصدیق کرتا ہے جغرافیہ کی بھی تصدیق کرتا ہے ، وہ اسی سائنس کی بھی تصدیق کرتا ہے، وہ تاریخ کی بھی تصدیق کرتا ہے ، مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ایک اور طرف بھی ہے جس طرف تمہیں توجہ پھیر نے کی ضرورت ہے اور وہ موڑ وہ