انوارالعلوم (جلد 22) — Page 189
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۸۹ قادیانیوں نے ہی علیحدہ میمورنڈم پیش نہیں کیا تھا مسلم لیگ کی بھی ایک شاخ نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا اور جنہوں نے علیحدہ میمورنڈم پیش کرنے کا ارادہ نہیں کیا وہ وہی تھے جو کہتے تھے کہ ہم پاکستان کی پ“ بھی نہیں بننے دیں گے اس لئے نہیں کہ وہ مسلمانوں کے نمائندہ تھے بلکہ اس لئے کہ وہ پاکستان کا وجود ہی گوارہ نہیں کرتے تھے ورنہ خود لیگیوں نے بھی علیحدہ میمورنڈم تیار کئے تھے تا کہ لیگ کو مضبوطی حاصل ہو۔جب میمورنڈم پیش کرنے کا وقت قریب آیا اور چوہدری صاحب مسلم لیگ کی طرف سے نمائندہ مقرر ہوئے تو انہوں نے جماعت کو اطلاع دی کہ فیصلہ یہ ہوا ہے کہ دونوں فریق کی طرف سے صرف کانگرس اور لیگ کے میمورنڈم پیش ہوں کیونکہ دو ہی نکتہ نگاہ ہیں اور یہ دونوں انجمنیں دو مخالف خیالات کی نمائندگی کرتی ہیں اس پر ہر جماعت نے اپنے میمورنڈم پیش کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا (یا در ہے کہ احمدیہ میمورنڈم تیار کر کے لیگ کو بھجوا دیا گیا تھا تا کہ کوئی اعتراض ہو تو وہ بتا دیں مگر انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا )۔اس کے بعد کانگرس نے کسی مصلحت کے ماتحت اپنے وقت میں سے کچھ وقت سکھوں کو دیا اور اسی طرح احمدیوں کو بھی۔شاید ان کا یہ مطلب ہو کہ سکھوں کے مطالبات تو یہی ہیں جو کانگرس کے ہیں لیکن یہ اُجڑ قوم ہے۔کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ جب تک سردار جی نہ بولیں گے ہم راضی نہیں ہوں گے اور جب سکھ بولے تو شاید ا چھوتوں میں بھی یہ خیال پیدا نہ ہو جائے اس لئے ان کو بھی وقت دو۔( پہلے فیصلہ کے مطابق وقت صرف لیگ اور کانگرس میں تقسیم تھا اگر لیگ یا کانگرس اجازت نہ دیتی تو کوئی اور میمورنڈم پیش نہ ہوسکتا ) جب اس فیصلہ کا علم مسلم لیگ کو ہوا تو اس خیال سے کہ ہندوؤں کی طرف سے بعض دوسری قوموں کے لیڈر بھی پیش ہوں گے شاید اس کا بھی کوئی اثر پڑ جائے لیگ نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ایک دو علیحدہ میمورنڈم پیش کر دیں چنانچہ لیگ کی طرف سے ہمیں اور عیسائیوں کو ہدایت ملی کہ علیحدہ علیحدہ میمورنڈم پیش کرو ورنہ ہم پہلے ایسا کرنے کا ارادہ چھوڑ چکے تھے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ صرف احمدیوں کو ہی علیحدہ میمورنڈم پیش کرنے کی اجازت کیوں