انوارالعلوم (جلد 22) — Page 188
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۸۸ باتیں بیان کی گئی ہیں وہ سب کی سب جھوٹی ہیں کیونکہ یہ طبقہ جو احرار سے تعلق رکھتا۔ایک فیصدی بھی سچ نہیں بولتا۔پہلی بات تو میں نے بتا دی ہے کہ یہ جھوٹ ہے کہ الزام چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر تھا جماعت پر نہیں تھا۔اب میں دوسری بات لیتا ہوں۔دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ جب مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی تو مرزائیوں نے مسلم لیگ کے نمائندہ سے الگ اپنا وکیل کیوں پیش کیا ؟ میرا جواب یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے الگ میمورنڈم پیش کرنے کی وجہ احرار اور اُن کے ہم خیال تھے اگر وہ نہ ہوتے تو نہ ہم کو لیگ سے علیحدہ میمورنڈم پیش کرنے کی ضرورت تھی اور نہ مسلم لیگ کو ہم سے علیحدہ میمورنڈم پیش کرانے کی ضرورت تھی۔واقعہ یہ ہے کہ جب باؤنڈری کمیشن مقرر ہوا تو طبعا ہر جماعت نے خدمت قوم کے خیال سے اپنے اپنے میمورنڈم تیار کئے اور یہ خیال کیا گیا کہ جتنے زیادہ میمورنڈم دیں گے اُتنا ہی کمیشن پر زیادہ اثر ہو گا۔زمیندار بھی کہیں گے کہ ہم پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں، تاجر بھی کہیں گے کہ ہم پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اِسی طرح دوسرے لوگ بھی۔ہندوؤں کی طرف سے بھی بیسیوں انجمنوں نے میمورنڈم پیش کرنے کا ارادہ کیا۔اسی خیال کے ماتحت جماعت احمدیہ نے بھی الگ میمورنڈم تیار کیا اور غالباً گورداسپور مسلم لیگ کی طرف سے بھی ایک میمورنڈم تیار کیا گیا اور وہ لوگ جنہوں نے یہ میمورنڈم تیار کیا تھا ابھی زندہ موجود ہیں اِن میں غلام فرید صاحب ایم ایل اے، شیخ کبیر الدین صاحب، شیخ شریف حسین صاحب وکیل جو احراریوں کے لیڈر تھے ، مولوی محبوب عالم صاحب جو اس وقت اوکاڑہ میں احراریوں کے لیڈر بنے ہوئے ہیں اور مرزا عبد الحق صاحب وکیل۔کیا یہ لوگ مسلم لیگ کو مسلمانوں کا واحد نمائندہ خیال نہیں کرتے تھے؟ اسی طرح امرتسر کی ایک انجمن نے بھی علیحدہ میمورنڈم پیش کرنے کا ارادہ کیا اور بعض انجمنوں نے جالندھر اور ہوشیار پور سے بھی یہی ارادہ کیا کہ علیحدہ میمورنڈم پیش کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک کے اندر ایک خاص جوش تھا کہ کسی طرح پاکستان کی طرف سے زیادہ سے زیادہ میمورنڈم بنائیں اور یہ کہیں کہ ہم پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اس کا حکومت پر اثر ہوگا۔گویا صرف