انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 146

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۴۶ اسلام نے عورت کو جو بلند مقام بخشا ہے۔۔۔فرائض ادا کرو دیں جن کے ماتحت چھ سات ماہ کے اندر مسجد کی تعمیر مکمل ہو جانی چاہئے تھی اور ہمارے لئے ان پابندیوں کے مطابق مسجد بنا نا ممکن نہیں تھا اس لئے ہم نے وہ روپیہ لندن کی مسجد میں لگا دیا اور عورتوں کے روپیہ سے وہ مسجد بن گئی۔بہر حال ہماری جماعت کی عورتوں کی تعدا داب دس گنا زیادہ ہے اگر اس مسجد کی بھی وہ وہی اہمیت محسوس کرتیں اور اسی اخلاص کا نمونہ دکھاتیں جو اُنہوں نے برلن کی مسجد کے متعلق دکھایا تھا تو اب تک آٹھ لاکھ روپیہ جمع ہو جانا چاہئے تھا مگر ہو انہیں ہزار ہے۔اب گورنمنٹ کی طرف سے مطالبہ ہورہا ہے کہ جلدی مسجد بنائی جائے اور جن شرطوں کے مطابق ہمیں اس مسجد کے بنانے کی اجازت ملی ہے ان کے لحاظ سے بھی ہمیں جلد سے جلد یہ مسجد بنالینی چاہئے۔پس میں احمدی خواتین کو ایک بار پھر تحریک کرتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اس مسجد کے لئے روپیہ جمع کریں۔زمین خرید لی گئی ہے اور اگر چھ مہینے کے اندر اندر ہم عمارت شروع نہیں کریں گے تو معاہدہ کے مطابق یہ زمین ضبط ہو جائے گی۔لجنہ اماءاللہ کو چاہئے کہ وہ مختلف جماعتوں پر ان کی تعداد کے لحاظ سے چندہ معین کر کے تقسیم کر دے اور اُن کا فرض قرار دے کہ وہ اس چندہ کو جلد سے جلد جمع کر کے مرکز میں ارسال کریں۔مردوں پر امریکہ کی مسجد کا خرچ ڈالا گیا ہے جس پر ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ ہو چکا ہے اور ابھی عمارت کی مرمت اور درستی پر اور رو پر بھی خرچ ہوگا۔عورتوں میں مسجد ہالینڈ کے چندہ کی تحریک اگر چہ پیچھے ہوئی ہے مگر تمہارے لئے ایک یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ مردوں کا چندہ تمہارے چندہ سے بھی کم ہے حالانکہ مرد اگر قربانی کرتے تو ایک ایک شہر کے لوگ اتنا روپیہ جمع کر سکتے تھے مگر ان کا چندہ صرف چھیں ہزار ہوا ہے۔پس تمہارے لئے یہ امر مزید خوشی کا موجب ہے کہ باوجود اس کے کہ تمہاری آمد میں مردوں سے بہت کم ہوتی ہیں پھر بھی تم اُن سے پہلے چندہ ادا کر دیتی ہو۔ابھی گزشتہ دنوں یہاں خدام کا اجتماع ہوا تو ان میں سے ایک نے کھڑے ہو کر کہا کہ عورتوں کی اس میں کیا خوبی ہے آخر وہ ہم سے لے کر ہی دیتی ہیں دوسرے نے جواب دیا کہ لے تو لیتی ہیں۔آخر میں میں تمہیں اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ لجنہ کے دفتر کی بنیاد یہاں قائم