انوارالعلوم (جلد 22) — Page 112
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۱۲ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر اے میرے بھائی ! یونس بن متی کے بیٹے ! میں تمہیں خدا تعالیٰ کی باتیں سُنانا چاہتا ہوں۔چنانچہ آپ نے اسے تبلیغ شروع کی اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اجنبی غلام آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گیا اور آپ کے سر ، ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دینے لگا۔باغ کے مالک نے پہلے تو ترس کھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے انگور بھیجے تھے۔جب اُس نے دیکھا کہ اُس کا غلام عقیدت مندانہ طور پر آپ کے پاس بیٹھا ہے تو وہ غضبناک ہو گیا اور اپنے غلام کو بُلا کر کہنے لگا یہ شخص میرا رشتہ دار ہے؟ میں جانتا ہوں کہ یہ مجنون ہے۔اُس غلام نے کہا یہ نہیں ہوسکتا۔اس کی باتیں تو نبیوں والی معلوم ہوتی ہیں۔لوگ کہتے ہیں جب اُوکھلی میں سر دیا تو موہلوں کا کیا ڈر 19 اگر کوئی صداقت کی مخالفت کرتا ہے تو کرے مومن کو مخالفت سے گھبرانا نہیں چاہئے۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو جب شہید کیا جا رہا تھا تو دیکھنے والوں نے شہادت دی ہے کہ جب آپ پر پتھر برسائے جاتے تھے تو آپ فرماتے تھے اے اللہ ! تو ان لوگوں پر رحم فرما۔دراصل ان کو پتہ نہیں کہ میں کون ہوں۔یہ مجھے جھوٹا اور مرتد خیال کرتے ہیں اور اپنے خیال میں ایک نیکی کا کام کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جس کے اندر سچائی ہوتی ہے وہ کہتا ہے اچھا جتنا ستانا ہے ستالو۔ہاں اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس سچائی نہیں تو وہ بے شک ڈرے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجران کے عیسائیوں کا جب وفد آیا تو مسجد میں بیٹھ کر گفتگو شروع ہوئی اور گفتگو بھی ہوگئی۔وہ باتیں سنتے رہے۔آخر انہوں نے کہا ہماری نماز کا وقت ہو گیا ہے ہم باہر جا کر نماز ادا کر آئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باہر جانے کی کیا ضرورت ہے ہماری مسجد میں ہی اپنی نماز ادا کر لیں۔آخر ہماری مسجد خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے ہی بنائی گئی ہے ہے لیکن اب یہ رواداری لوگوں میں باقی نہیں۔یہاں تک کہ اس زمانہ میں بعض مساجد پر یہاں تک لکھ دیا گیا ہے کہ اس مسجد میں کوئی وہابی یا مرزائی داخل نہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کی اتباع کا یہ لوگ دعوی کرتے ہیں وہ تو عیسائیوں