انوارالعلوم (جلد 22) — Page 111
انوار العلوم جلد ۲۲ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے مجھے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔مولوی صاحب نے کہا ہے کہ کلکتہ تک جا کر ہم دیکھتے ہیں کہ پتھر کس پر پڑتے ہیں اور پھول کس پر برسائے جاتے ہیں۔آپ عالم آدمی ہیں تاریخ نکال کر دیکھیں کہ مکہ والے پتھر کس کو مارتے تھے اور پھول کس پر پھینکتے تھے۔اگر پتھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑتے تھے اور پھول ابو جہل پر پھینکے جاتے تھے تو میں سچا اور یہ جھوٹے۔لیکن اگر پھول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینکے جاتے تھے اور پتھر ابو جہل کو مارے جاتے تھے تو میں جھوٹا اور یہ بچے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تبلیغ کے لئے طائف تشریف لے گئے تو طائف والوں نے لڑکوں کو اُکسایا اُنہوں نے آپ پر پتھر پھینکنے شروع کئے اور گتے آپ کے پیچھے لگا دئیے۔آپ وہاں سے چلے آئے اور راستہ میں ایک باغ میں پناہ گزین ہوئے۔آ کے ساتھ حضرت زیڈ بھی تھے اور وہ بھی زخمی تھے۔آپ کے پاؤں سے لہو بہہ رہا تھا۔وہ باغ اتفاقا آپ کے ایک شدید دشمن کا تھا۔مکہ میں زراعت نہیں ہوتی تھی اس لئے بعض لوگوں نے مکہ سے باہر زمین خرید کر باغات لگائے ہوئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ کے کنارے پر بیٹھ گئے اِس لئے کہ اگر آپ اس کے اندر گئے تو باغ کا مالک کیا ہے گا ؟ ایسے موقع پر ایک شدید سے شدید دشمن میں بھی شرافت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔جب اُس باغ کے مالک نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی حضرت زید کی یہ حالت دیکھی تو اُس نے کہا ان پر بڑا ظلم ہوا ہے۔خود تو اُس سے جرات نہ ہوئی ، اُس نے اپنے ایک غلام کو جو نینوا شہر کا رہنے والا تھا حکم دیا کہ ان کو اچھے اچھے انگور کھلا ؤ۔وہ غلام انگور لے کر آپ کے پاس گیا۔اُس نے جب آپ کو سر سے پاؤں تک زخمی دیکھا تو وہ حیران ہوا اور آپ سے دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا۔میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور وہ مجھے پتھر مارتے ہیں۔وہ غلام عیسائی تھا۔جب اُس نے آپ سے تمام قصہ سُنا تو عیسائیت کی یاد اُس کے دل میں پھر تازہ ہو گئی۔اُس نے محسوس کیا کہ اس کے سامنے خدا تعالیٰ کا ایک رسول بیٹھا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس غلام سے کہا