انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 108

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۰۸ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر اس لئے آپ نے فرمایا اب گفتگو ختم کر دینا چاہئے اور یہاں سے چلے جانا چاہئے لیکن مدینہ والے اب ایمان لاچکے تھے اور موت اُن کی نظروں میں حقیر ہو چکی تھی۔اُنہوں نے کہا ہم کمزور نہیں ہم بھی عرب ہیں اگر مشرکین مکہ نے ہمیں کوئی نقصان پہنچانا چاہا تو ہم ان کا مقابلہ کریں گے اور آپ پر جو انہوں نے ظلم کئے ہیں ان کا بدلہ لیں گے۔جب آپ مدینہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ کے بعد آپ جنگ بدر کے لئے باہر نکلے تو خدا تعالیٰ نے الہاماً آپ کو یہ خبر دی کہ آپ کا مقابلہ قافلہ سے نہیں ہوگا بلکہ ملکہ سے آنے والے لشکر کے ساتھ ہوگا۔اُس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ اب قافلہ کا کوئی سوال نہیں صرف فوج ہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔کیا آپ لوگ اس کے لئے تیار ہیں؟ اس پر ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوا اور اُس نے کہایا رَسُول اللہ ! اگر دشمن ہمارے گھروں پر چڑھ آیا ہے تو ہم اس سے ڈرتے نہیں ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔مگر ہر ایک کا جواب سن کر آپ یہی فرماتے کہ اے لوگو ! مجھے مشورہ دو۔مدینہ کے لوگ اُس وقت تک خاموش بیٹھے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا کہ مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے عرض کیا یا رسُول اللہ ! مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے مگر پھر بھی جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم باشندگانِ مدینہ سے ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے عرض کیا۔یا رَسُول اللہ ! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب فرما رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہو ا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ کے باہر کوئی لڑائی ہوئی تو ہم اس میں حصہ لینے کے پابند نہیں ہوں گے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔اس نے کہا یا رَسُول اللہ ! جس وقت یہ معاہدہ ہوا تھا ، اُس وقت ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی لیکن اب جبکہ ہم نے آپ کے معجزات اور نشانات دیکھ لئے ہیں ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپ کی شان پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے، یا رَسُول اللہ ! اب اُس معاہدہ کا کوئی سوال نہیں۔ہم موسیٰ علیہ السلام کے