انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 107

انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۰۷ بھیرہ کی سرزمین میں ایک نہایت ایمان افروز تقر نے آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوئے اور کہا اس سال ہم تھوڑی تعداد میں آئے ہیں اگلے سال ہم زیادہ تعداد میں آئیں گے اور آپ کی باتیں سنیں گے۔چنانچہ اگلے سال باره آدمی آئے۔آپ کی باتیں اُن کے دلوں میں گھر کر گئیں اور وہ آپ کی بیعت کر کے واپس چلے گئے اور اگلے سال اس سے بھی زیادہ تعداد میں آنے کا وعدہ کیا۔چنانچہ اگلے سال ایک بڑا قافلہ آیا جس میں عورتیں اور بچے بھی تھے لیکن مخالفت کا اتنا جوش تھا کہ مشرکین مکہ چونکہ لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نہیں سننے دیتے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی عقبہ میں مدینہ سے آنے والوں سے رات کے بارہ بجے ملاقات فرمائی۔مدینہ والوں نے جب آپ کی باتیں سنیں تو انہوں نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! آپ نے جو کچھ بیان کیا وہ سب ٹھیک ہے ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ نے اُن کی بیعت لے لی۔حضرت عباس کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے گئے تھے۔حضرت عباس آپ سے دو سال بڑے تھے اور دل سے آپ پر ایمان لاچکے تھے۔جب وہ لوگ بیعت کر چکے تو اُنہوں نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! اس بہتی نے آپ کو قبول نہیں کیا آپ ہماری بستی میں آجائیں۔حضرت عباس نے کہا یہ آسان بات نہیں۔مکہ والوں کو پتہ لگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے ہیں تو وہ مدینہ پر حملہ کر دیں گے۔تم پہلے سوچ سمجھ لو ایسا نہ ہو کہ پھر مقابلہ سے گریز کرو۔اُنہوں نے کہا ہم نے خوب سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ہم بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔حضرت عباس نے کہا اچھا معاہدہ کر لو۔چنانچہ ایک معاہدہ ہوا کہ اگر مدینہ میں آپ پر یا مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ کے باہر کوئی لڑائی ہوئی تو ہم مدافعت کے ذمہ دار نہیں ہوں گے کیونکہ سارے عرب سے لڑائی مول لینا ہمارے بس کی بات نہیں۔اتنے میں کسی نے کفار مکہ کو یہ خبر دے دی کہ مدینہ سے ایک قافلہ آیا ہے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کر رہا ہے ، ان کا جلدی کوئی انتظام کرنا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ بات پہنچ گئی اور آپ نے خیال کیا ایسا نہ ہو کہ وہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچائیں