انوارالعلوم (جلد 21) — Page 53
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۳ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ لاہور ۱۹۴۸ء فرض ادا ہو جاتا تھا لیکن اب صرف نماز پڑھ لینے سے تمہارا فرض ادا نہیں ہوگا ، اب صرف زکوۃ دینے سے تمہارا فرض ادا نہیں ہوگا ، اب صرف حج کر لینے سے تمہارا فرض ادا نہیں ہوگا اب تمہارے سپر دایک چیز کی گئی ہے جس کی حفاظت کے لئے تم سے تمہاری جانوں کا مطالبہ کیا جائے گا اور مالی قربانیوں کے علاوہ تمہیں جانی قربانیاں بھی دینی پڑیں گی اور جو شخص اس سے گریز کرتا ہے یا جو شخص موت سے ڈرتا ہے اس کا ایمان ہرگز کامل نہیں اس کا ایمان ناقص ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی امید نہیں کر سکتا۔مؤمن کے لئے جان کی قربانی پیش کرنا درحقیقت چیز ہی کوئی نہیں ہے۔غالب کے متعلق لوگ بخشیں کرتے ہیں کہ وہ شراب پیا کرتا تھا یا نہیں۔مگر میرا تو ی وہ رشتہ دار ہے اور میں نے اپنی نانیوں اور پھوپھیوں سے سنا ہوا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا۔ایسا شخص جو شراب کا عادی تھا وہ بھی کہتا ہے۔جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نه ہوا یعنی اگر ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتے ہیں تو کیا ہوا یہ جان بھی تو اُسی کی دی ہوئی تھی۔پس خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اگر کوئی شخص جان بھی دے دیتا ہے تو وہ کوئی بڑی قربانی نہیں کرتا کیونکہ وہ جان بھی اُسی کی چیز ہے اور کسی کی امانت کو واپس کر دینا بڑی قربانی نہیں ہوتا۔احادیث میں ایک صحابیہ کا قصہ آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے شوہر کو کسی اسلامی خدمت کے سلسلہ میں باہر بھیجا۔اُن کا بچہ بیمار تھا اور انہیں اپنے بچہ کی بیماری کا تی طور پر فکر تھا وہ صحابی جب واپس آئے تو ان کی غیر حاضری میں اُن کا بچہ فوت ہو چکا تھا۔ماں نے اپنے مردہ بچہ پر کپڑا ڈال دیا۔وہ نہائی دھوئی اور خوشبو لگائی اور بڑے حوصلے کے ساتھ اس نے اپنے خاوند کا استقبال کیا۔وہ صحابی جب گھر آئے تو انہوں نے آتے ہی سوال کیا کہ بچے کا کیا حال ہے۔اس صحابیہ نے جواب دیا۔بالکل آرام ہے۔انہوں نے کھانا کھایا پھر تسلی کے ساتھ آرام سے لیٹ گئے اور تعلقات زوجیت بھی پورے کئے۔جب وہ اپنی بیوی کی سے مباشرت کر چکے تو بیوی نے کہا میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتی ہوں۔خاوند نے جواب دیا کیا؟ بیوی نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی کے پاس امانت رکھ جائے اور کچھ عرصہ کے