انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 43

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۳ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء کہ ہمارے دفاتر ربوہ چلے گئے ہیں۔دفاتر کے وہاں چلے جانے کے بعد چندے میں یکدم کمی آ گئی ہے اب چونکہ دو جگہیں بن گئی ہیں اس لئے دوست سمجھتے ہیں کہ جب تمام دفا تر وہاں چلے جائیں گے تب چندے بھیج دیں گے یا پہلے لاہور چل کر پتہ کر لیں پھر چندے بھیجیں گے غالباً اس کے نتیجہ میں ہی چندوں میں کمی واقع ہو گئی ہے اور پچھلے تین مہینہ میں سلسلہ کا ایک لاکھ روپیہ کا نقصان ہوا ہے آخر یہ کام آپ لوگوں نے ہی کرنا ہے اور کسی نے نہیں کرنا۔چندہ اکٹھا دینا مشکل ہوتا ہے اور قسط وار دینا آسان ہوتا ہے۔اس لئے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مج اپنے چندے جلد از جلد ربوہ میں بھجوانے شروع کر دیں۔عارضی دفاتر یہاں ہیں اصل دفاتر ربوہ میں ہیں اس لئے جو چندے جمع ہوں انہیں جلد از جلد ربوہ میں بھجوا دینا چاہئے۔اگر چندوں میں اسی طرح سستی ہوتی رہی اور روپیہ نہ آیا تو سلسلہ کے کاموں کو نقصان پہنچے گا اور چونکہ ہم نیا مرکز بنانے والے ہیں اس لئے ہمیں زیادہ روپیہ کی ضرورت ہے کم روپیہ کفایت نہیں کرسکتا۔اب میں آخری بات جس کی طرف ہماری جماعت کا توجہ کرنا ضروری ہے کہہ کر اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔پہلے مسلمانوں کے پاس اپنا کوئی وطن نہیں تھا لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے ایک مقام عطا فرمایا ہے جسے ہم اپنا وطن کہہ سکتے ہیں۔بیشک ہم کہلاتے تو اُس وقت بھی ہندوستانی تھے لیکن جب ہمارے وطن کی باگ ڈور کسی اور قوم کے ہاتھ میں تھی تو یہ وطن در حقیقت نہ ہونے کے برابر تھا۔مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کے سامنے التجا کی کہ وہ انہیں ایک علیحدہ وطن بخشے اور اس کے لئے اُنہوں نے کوشش بھی کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک علیحدہ وطن کی بخش دیا جس کا نام پاکستان رکھا گیا ہے۔اس وطن کے مل جانے کے بعد ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔پہلے زمانہ میں اگر کوئی مملک اس پر حملہ کرتا تھا یا کسی ملک سے ہمارے ملک کی لڑائی ہو جاتی تھی تو ہم کہتے تھے کہ اس ملک پر انگریز حکومت کرتا ہے اس لئے ہمیں لڑنے کی کیا کی ضرورت ہے۔انگریز جائے اور دشمن سے لڑے گویا اُس وقت آسانی کے ساتھ ہم وہی کچھ کہہ سکتے تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے آپ سے کہا آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کنعان کا ملک تمہارے لئے مقدر کیا ہوا ہے تم لڑائی کرو اور ملک لے لو۔موسیٰ علیہ السلام کی