انوارالعلوم (جلد 21) — Page 460
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۰ اسلام اور ملکیت زمین زمین اُن کو دے دیگا۔میں نے رافع کی روایت میں چند الفاظ کا ترجمہ نہیں کیا تھا۔صرف عربی الفاظ ہی دُہرا دیے تھے اور اس کی ایک وجہ تھی۔وہ وجہ یہ تھی کہ زمین کی ملکیت کے مخالف لکھنے والوں میں سے ایک صاحب جنہوں نے گورنمنٹ کی کمیٹی میں اپنی رائے علیحدہ لکھ کر پیش کی ہے اُنہوں نے ان احادیث میں آنے والے الفاظ ربیع اور اربعاء کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ہم چوتھے حصہ پر بٹائی کیا کرتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ایسا معلوم ہوتا تج ہے کہ ان صاحب نے بجائے اصل حدیثیں دیکھنے کے کسی ناواقف شخص کے ترجمہ سے ، حدیثیں اخذ کی ہیں ورنہ وہ اتنی بڑی غلطی نہ کرتے۔ان احادیث میں جو ربیع اور اربعاء کے الفاظ آتے ہیں ان کے معنی چوتھے حصہ کے نہیں بلکہ ربیع کے معنے چھوٹی نہر کے ہوتے ہیں اور اربعاء اس کی جمع ہے جس کے معنی ہیں چھوٹی نہر ہیں۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہیر سے سوال کیا کہ تم اپنی زمینوں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ تو جو جواب حضرت ظہیر رضی اللہ عنہ نے دیا اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ ہم چوتھے حصہ پر بٹائی کرتے ہیں اور کھجور اور جو کا کچھ وزن کی مقرر کر لیتے ہیں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو منع فرمایا بلکہ ظہیر رضی اللہ عنہ کا چھ مطلب یہ تھا اور یہی معنی عربی کے ہیں کہ ہم جس کو زمین بٹائی پر دیتے تھے اُس سے یہ شرط کر لیتے ہی تھے کہ جو حصہ فصل کا نہروں کے کناروں پر آئے گا وہ سارا ہمارا ہوگا اور جو باقی بچے گا اُسے اُس کے بدلہ میں تم کچھ کھجور میں اور کچھ کو جو پہلے مقرر کر دیئے جاتے تھے ہم کو دے دیا کرنا۔ظاہر ہے کہ یہ طریق خالص جوئے بازی کا ہے۔اول تو یہ فعل نہایت ظالمانہ ہے کہ پانی کے کنارے کی جو اعلیٰ فصل ہو اُس کو اپنے لئے مخصوص کر لیا جائے۔دوسرے یہ بھی ناجائز فعل ہے کہ بغیر اس علم کے کہ زمین سے کیا پیدا ہوگا اور کیا نہیں ہو گا قبل از وقت کچھ مقدار غلہ کی اور کچھ کھجور کی مقرر کر لی جائے کہ یہ تم نے ہم کوضرور دینی ہے خواہ فصل پیدا ہو یا نہ ہو۔یہ استدلال میرا نہیں بلکہ خود رافع بن خدیج نے دوسری حدیثوں میں اس کی تشریح کر دی ہے چنانچہ رافع بن خدیج کی ایک حدیث ان الفاظ میں کتابوں میں آتی ہے۔حدیثـنـي عمـای انهما كانا يكريان على عهد رسول الله الا الله بما ينبت على الاربعاء وشيء يستثنيه صاحب الارض فنهى النبي عل الا الله عن ذالک ۷۸ یعنی رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ مجھ