انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 459

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۵۹ اسلام اور ملکیت زمین طرف توجہ دلاتے تھے کہ ان کو اس سے زیادہ زمین اپنے پاس نہیں رکھنی چاہیے جس کو کہ وہ خود کاشت کر سکیں۔مگر جیسا کہ میں ابھی ثابت کروں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرگز یہ منشا نہیں تھا اور اگر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحیح ہے تو اس کا بھی وہ مفہوم نہیں جو سمجھا گیا ہے اور نہ جابر رضی اللہ عنہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیثوں کے وہ معنے ہیں جو بظا ہر لفظوں سے نظر آتے ہیں۔پہلی دلیل جو میں اصولی طور پر دینا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں اوپر چھٹے باب میں یہ ثابت کری آیا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال بن حارث مزنی کو اتنا وسیع ٹکڑ ا ز مین کا تی عطا فرمایا کہ ایک چھوڑ ہزار آدمی بھی اُس میں ہل نہیں چلا سکتا تھا۔اس طرح حضرت زبیر کو آپ نے اتنا بڑا ٹکڑا زمین کا عطا فرمایا جس کا رقبہ کئی مربعہ میں بنتا تھا۔اس باب میں میں یہ بھی حدیث نقل کر چکا ہوں کہ حضرت علیؓ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بڑا ٹکڑا زمین کا طلب فرمایا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ ٹکڑا اُن کو دیا۔اگر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کے وہی معنی ہیں جو ملکیت زمین کے مخالف لوگ پیش کرتے ہیں تو اول تو خود رافع کے خاندان کے پاس ضرورت سے زیادہ زمین کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نا جائز قرار نہیں دیا ور نہ آپ اُن سے زمین چھینتے کیوں نہ۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ ان کے پاس وہ زمین پہلے سے چلی آتی تھی اس لئے آپ نے اُن سے چھینی نہیں بلکہ نصیحت کر دی تو پھر اوپر کی روایتوں کا کیا جواب ہوگا۔راف کے خاندان سے تو آپ نے اس لئے زمین نہ چھینی کہ اُن کے پاس یہ زمین اسلام سے پہلے کی تھی۔ہاں اشارہ فرما دیا کہ اتنی زمین رکھنی منع ہے مگر بلال رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ کو ان سے بھی کئی سو گنے زیادہ زمین خود کیوں دے دی ؟ کون عقلمند کہہ سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بڑی زمین دیتے وقت یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ایک ہل یا بیٹوں کے ہل ملا کر تین چارہل بیبیوں مربع میل علاقہ میں کاشت نہیں کر سکتے۔پھر کون مان سکتا ہے کہ اس حکم کے ہوتے ہوئے حضرت علیؓ جیسا مستغنی انسان حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پینج کے قصبہ کی زمینی طلب فرمائے گا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا انسان اس ممنوع سوال کو قبول کر لے گا اور وہ