انوارالعلوم (جلد 21) — Page 433
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۳۳ اسلام اور ملکیت زمین فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں وہ ایسا کر سکتا ہے۔پھر وہ کہتے ہیں۔میں نے پوچھا کہ کیا کسی سے زمین مقاطعہ پر لے کر اُس میں کھیتی کرنا جائز ہے؟ فرمایا ہاں خرچ تمہارا ہوگا ، زمین اُس کی ہوگی تم دونوں اس کے حصہ دار ہو گے۔پھر جو کچھ اس زمین میں سے پیدا ہوگا وہ مقاطعہ کی شرطوں کے مطابق تقسیم ہو جائے گا۔اور فرمایا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اس طرح کی کرتے تھے۔جب خیبر کے یہودی آپ کے پاس آئے تو آپ نے خیبر کی زمینیں جو مسلمانوں میں تقسیم ہو چکی تھیں، وہ اُن کو اس شرط پر دلوادیں کہ وہ اس میں کھیتی باڑی کریں گے اور آدھا حصہ مسلمانوں کو مل جائے گا اور آدھا حصہ اُن کو مل جائے گا۔ان روایتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسلام کے احکام کے رُو سے اگر کوئی شخص بوجہ بیماری یا غیر حاضری اپنی تھوڑی سی زمین کو خود کاشت نہ کر سکے یا بڑی زمین کو خود آباد نہ کر سکے تو وہ اپنی زمین بٹائی پر دوسرے لوگوں کو دے سکتا ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا اور صحابہ نے ایسا کیا اور دوسروں کو ایسا کرنے کا مشورہ دیا۔پس بٹائی پر زمین کا دینا اسلام کی رو سے ہرگز نا جائز نہیں۔