انوارالعلوم (جلد 21) — Page 432
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۳۲ اسلام اور ملکیت زمین کے خاندان کا گزارہ ایک ایسی زمین پر تھا جو آگے مقاطعہ پر دی ہوئی تھی اور جو آمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے مطہر وجود کے لئے پاک تھی وہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے کیوں پاک نہیں؟ بہر حال آپ کے فعل نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اسلام کے رو سے ما لک زمین کا اپنی زمین دوسرے کو مقاطعہ پر دے دینا بالکل جائز اور درست ہے۔یہ جو کچھ میں نے کہا ہے ایسا واضح معاملہ ہے کہ اس کا کوئی عقلمند انسان انکار نہیں کر سکتا لیکن میں مزید ثبوت کے طور پر بعض احادیث اور روایات بھی اس کی تائید میں پیش کرتا ہوں۔بخاری میں لکھا ہے۔عن ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطى خيبر اليهود على ان يعملوها ويزرعوها ولهم شطر ماخرج منها ۲۴ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین پر جو آپ نے اپنے لئے اور اپنے صحابہ کیلئے اور بیت المال کے لئے تقسیم کر دی تھی یہودیوں کو اس شرط پر دے دی کہ وہ اس پر کام کریں اور اس میں زراعت کریں اور جو پیدا وار ہو اُس کا نصف اُن کو دیا جائے۔اہلِ شیعہ کی احادیث میں بھی اس مسئلہ کی تصدیق آتی ہے۔چنانچہ فروع الکافی جلد ۲ صفحہ ۱۰۳ پر یہ روایت درج ہے کہ عن يعقوب بن شعیب عن ابی عبدالله عليه السلام قال سألت عن الرجل يكون له الارض من ارض الخراج فيدفعه الى الرجل على ان يعمرها ويصلحها ویودی خراجها وماكان من فضل فهو بينهما قال لاباس وسالته عن المزارعة فقال النفقة منك والارض لصالحبها فما اخرج الله منها من شيىء قسم على شرط وکذلک اعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر حين اتوه فاعطاهم اياها على ان يعمروها ولهم النصف مما اخرجت يعنى يعقوب بن شعیب فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابو عبد اللہ علیہ السلام سے پوچھا کہ اگر کسی شخص کے پاس خراجی زمین میں سے کچھ حصہ زمین کا ہو تو کیا اُس کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی اور شخص کو وہ زمین دے دے تا کہ وہ اس میں کاشت کرے اور اس کو سنوارے اور گورنمنٹ کا خراج اس میں سے ادا کرے اور خراج کے بعد جو کچھ بیچ رہے اُسے زمین دینے والے کے ساتھ آدھا آدھا بانٹ لے؟ امام ابو عبد اللہ نے