انوارالعلوم (جلد 21) — Page 383
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۸۳ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی میں کہتا ہوں کہ باقی رہنے والا ٹکڑا بہت زیادہ ہے اگر نا دہندگان تھوڑی تعداد میں ہوتے تو میں انہیں نظر انداز کر دیتا اتنے بڑے ٹکڑے کو میں خدا تعالیٰ کی ملامت کے نیچے لا نا پسند نہیں کرتا۔اگر میں نئی تحریک کر دوں تو یہ لوگ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جائیں گے اور یہ بات میری طبیعت برداشت نہیں کرتی۔میں جانتا ہوں کہ نادہندگان میں سے بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ قادیان کی جنگ چونکہ ختم ہو چکی ہے اس لئے اب کسی چندہ کی ضرورت نہیں۔وہ نہیں جانتے کہ قادیان کی جنگ اب بھی جاری ہے اور اُس کے لئے ہمیں بار بار قربانی کرنی پڑے گی اور متواتر جد و جہد جاری رکھنی ہو گی۔وہ لوگ جو اپنی جائداد میں مشرقی پنجاب چھوڑ آئے ہیں انہیں یہ کوشش کرنی چاہیے تھی کہ وہ چندہ پہلے ادا کر دیتے لیکن اگر اب وہ اس حالت میں نہیں کہ چندہ ادا کر سکیں تو کم از کم وہ یہ لکھ کر دے دیں کہ ہماری جائدادیں مشرقی پنجاب میں رہ گئی ہیں اور اب ہم اس قابل نہیں کہ اپنے وعدہ کو پورا کر سکیں۔اس کے بعد وہ ثواب حاصل کرنے کے لئے اس مد میں خواہ ایک روپیہ ہی چندہ دے سکیں دے دیں یہ چندہ اُن کی جائدادوں کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ بطور اظہار عقیدت یہ بتانے کے لئے ہوگا کہ اگر چہ ہم غریب ہیں مگر ہمارا دل غریب نہیں اور اس کی سے یہ بھی پتہ لگ جائے گا کہ نادہندگان میں سے کتنے ہیں جو وعدہ پورا کرنے سے معذور ہیں۔ہم نے مغربی پنجاب کے دو ضلعوں لائلپور اور ملتان کا اندازہ لگایا ہے ان میں سے ایک کے ذمہ ابھی ۷۰ فیصدی کے قریب وعدے واجب الادا ہیں اور ایک کے ذمہ ۸۰ فیصدی۔جب وعدہ کنندگان کو اِس طرف توجہ دلائی گئی تو اُن میں سے بعض نے جواب دیا کہ ہم تو سمجھے تھے کہ کام ختم ہو گیا اس لئے اب اس چندہ کی ضرورت نہیں رہی۔مگر یہ جواب صحیح نہیں تھا کام جاری ہے اور اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک قادیان ہمیں دوبارہ نہیں مل جاتا۔لیکن جو لوگ اب چندہ دینے سے معذور ہیں انہیں کم از کم اپنے کھاتے صاف کرا دینے چاہئیں اور پھر حسب توفیق ایک روپیہ یا آٹھ آنے ہی اگر وہ چندہ دے سکتے ہیں تو حفاظت مرکز کے لئے ارسال کر دیں تا کہ وہ ثواب سے محروم نہ رہیں اور جو اِس طرف کے رہنے والے ہیں اور اُن کی جائدادیں محفوظ ہیں اُن سے میں کہتا ہوں کہ تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور یہ چندہ بہت جلد ادا