انوارالعلوم (جلد 21) — Page 382
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۸۲ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی پاکستان آگئے اب اس چندہ کی ضرورت نہیں۔لیکن اگر تم نے اس چندہ کا وعدہ قادیان کی حفاظت کے لئے کیا تھا تو قادیان اب بھی موجود ہے اور اس کی حفاظت کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔میں جب کوئٹہ گیا تو رستہ میں میری ایک لڑکی رونے لگی وہ کہنے لگی کہ میں نے اس کمرہ میں نہیں رہنا میں نے دوسری والدہ کے پاس جانا ہے۔(اُس کی اپنی والدہ فوت ہو چکی ہے ) چونکہ جگہ محدود تھی اور برابر کی تقسیم کی ہوئی تھی میں نے چاہا کہ اُسے دوسرے کمرہ میں چھوڑ آؤں اور اُس کی جگہ پر کوئی دوسری سواری لے آؤں۔میں اُس لڑکی کو دوسرے کمرہ میں چھوڑ آیا اور کی اُس کی جگہ پر اپنی ایک بہو کو لے آیا۔میں ابھی پلیٹ فارم پر ہی تھا کہ گاڑی چل پڑی۔ڈرائیور کی نے غالباً شرارت کی اور گاڑی کو یکدم تیز کر دیا۔زنجیر کھینچی گئی مگر وہ جام تھی اس لئے کھینچی نہ کی جاسکی ادھر پرائیویٹ سیکرٹری کا عملہ حسب دستور چپ چاپ گاڑی میں بیٹھا رہا۔میری بیوی اور لڑکی کا چونکہ جسمانی رشتہ بھی تھا اس لئے اُنہوں نے شور مچا دیا دوسرے ڈبہ سے میری بیوی نے زنجیر کھینچنے کے لئے پورا زور لگایا مگر وہ بھی جام تھی اُنہوں نے لڑکی سے کہا تو بھی ساتھ لٹک جا چنا نچہ دونوں نے مل کر زور لگایا اور بالآخروہ زنجیر کھینچنے میں کامیاب ہو گئیں۔جب کوئٹہ پہنچے تو میں نے مذاقا کہا اب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب تاردیں گے کہ الحمد للہ ہم سب خیریت سے پہنچ گئے ہیں صرف خلیفتہ امیج پیچھے رہ گئے ہیں۔تمہارا رویہ بھی ایسا ہی ہے کہ اَلحَمدُ لِلهِ ہم سب خیریت سے پاکستان پہنچ گئے ہیں صرف قادیان پیچھے رہ گیا ہے اس لئے اب کسی چندہ کی ضرورت نہیں۔ہم نہیں جانتے کہ قادیان کے متعلق خدا تعالیٰ کیا تدابیر اختیار کرے گا مگر ہماری دلی خواہش یہی ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا فضل فرمائے کہ قادیان ہمیں جلد سے جلد مل جائے۔تم میں سے بعض مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ میرا ایک نیا مرکز بنا نا قادیان سے بے وفائی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قادیان کے لئے اُنہوں نے وہ قربانی نہیں کی جو میں نے کی ہے۔یہ بات بتا رہی ہے کہ ایسا اعتراض کرنے والے منافق ہیں۔میں جانتا ہوں کہ اگر میں نئی تحریک کروں تو مخلص لوگ ضرور اس میں حصہ لیں گے اور کئی دوست مجھے تحریک بھی کرتے رہتے ہیں کہ اگر بقایا داران چندہ نہیں دیتے تو آپ نئی تحریک کریں ہم چندہ دینے کے لئے تیار ہیں لیکن