انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 353

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۵۳ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی تھیں تمہیں لا کر بسا دیا ہے۔اسے دیکھ کر وہ زمانہ یاد آتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعہ مکہ کی دوبارہ بنیا درکھوائی۔یہ نشان تمہارے ایمان کی جتنی تقویت کا بھی موجب ہو تھوڑا ہے۔مجھ سے یہ خواہش کی گئی ہے کہ میں الفضل کے متعلق بھی تحریک کروں کہ احباب اس کی اشاعت کو بڑھانے کی طرف توجہ کریں۔پچھلے سال میں نے احباب کو ایجنسیاں قائم کرنے کے لئے کہا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ اس تحریک کی وجہ سے اب دُگنی تعداد ہوگئی ہے۔مگر میرے نزدیک یہ بھی کم ہے جہاں جہاں شہروں میں جماعتیں پائی جاتی ہیں دوستوں کو وہاں ایجنسیاں قائم کرنی کی چاہئیں اور الفضل کی اشاعت کو بڑھانے میں مدد کرنی چاہیے۔اب سب سے پہلے میں ربوہ کے سوال کو لیتا ہوں میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا یہاں آنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ دیر کی ایک الہی تقدیر ہے۔بعض لوگ جنہوں نے سنجیدگی کے ساتھ اس معاملہ میں غور نہیں کیا اور اُس سلسلۂ تحریک کو نہیں دیکھا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے وہ اسے اتفاقی حادثہ سمجھتے ہیں لیکن یہ اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف من سے اُس کی ایک مقررہ سکیم کے ماتحت ہوا ہے۔اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ اس بارہ می میں دیر سے خبریں دی جا رہی تھیں اور جس چیز کے متعلق دیر سے خبریں دی گئی ہوں وہ اتفاقی حادثہ نہیں ہوا کرتی۔آپ لوگوں میں کسی شخص کا چلتے چلتے گھوڑا گر جاتا ہے وہ خود زخمی ہو جاتات ہے اور اسے کسی مکان میں لے جایا جاتا ہے اس واقعہ کی کسی کو پہلے خبر دینے کی کیا ضرورت ہے مثلاً یسعیاہ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اس واقعہ کی پہلے سے اطلاع دیں ، حز قیل کو کیا ضرورت ہے جی کہ وہ اس واقعہ کے متعلق پہلے سے کچھ ذکر کریں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق قبل از وقت اطلاع دینے کی کیا ضرورت ہے۔پھر دنیا میں بھی یہ طریق جاری ہے کہ بڑے افسر اور اعلیٰ محکمے بڑی بڑی سکیمیں بناتے ہیں اور چھوٹی سکیمیں آگے چھوٹے افسروں اور ادنی محکموں کے سپر د ہوتی ہیں۔مثلاً اگر سیکرٹریٹ کا کوئی آدمی یا کوئی منسٹر کوئی سکیم بناتا ہے تو وہ اہم اور اصولی سمجھی جائے گی۔پھر اس کا کوئی حصہ ڈیفنس کمشنر کے سپرد ہوگا ، کوئی پروانشل کمشنر کے سپرد ہو گا اور کوئی ڈپٹی کمشنر کے سپرد ہو گا جتنے نیچے ہم اُترتے آئیں گے اس کے معنی یہ ہوں گے