انوارالعلوم (جلد 21) — Page 286
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۸۶ اسلامی شعار اختیار کرنے میں ہی تمہاری کا۔اگر اتنی بھی جرات نہیں کہ اُس کی بُرائی کو زبان کے ذریعہ روکے تو کم از کم دل میں بُرا منائے سے مجھ لیکن تم میں سے کتنے ہیں جو بُرائی دیکھ کر اُسے دل میں ہی بُرا مناتے ہیں پھر یہ کیسا ایمان ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔انگلستان میں پردہ کا سوال اُٹھا تو میں نے اپنے مبلغ کو کہلا بھیجا کہ اس ملک کے عادات ایسے ہیں کہ عورتیں پردہ کر ہی نہیں سکتیں مگر تم ہر نو مسلمہ سے یہ کہو کہ پردہ اسلامی حکم ہے اور پردہ نہ کرنے کو دل میں بُرا منا ؤ اور یہ ایمان رکھو کہ جہاں کہیں بھی پردہ کا موقع مل گیا تم پردہ کے حکم کو بجالاؤ گی۔لیکن اگر ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا کہ پردہ اچھا نہیں تو وہ اس حکم کی اطاعت کی نہیں کریں گی۔اسی طرح دوسری شادی ہے تم ان کے اندر یہ احساس پیدا کرو کہ دوسری شادی کی جائز ہے تا کہ وہ ان احکام کو اسلام کے ہی احکام مانیں اور ان کے اندر یہ احساس پیدا نہ ہو کہ یہ چیزیں غیر طبعی اور نا قابل قبول ہیں غرض جب تک تم اپنے کاموں میں جنون کا سا رنگ پیدا نہ کر لو گے تمہارے کام میں برکت نہیں پڑ سکتی اور بہت سی باتیں ہیں جن کے متعلق مجھے کچھ کہنا تھا لیکن چونکہ میں نے کل بھی بولنا ہے اس لئے انہی باتوں پر اکتفا کرتا ہوں۔میں تمہارا پریذیڈنٹ اس لئے بنا ہوں تا دیکھوں کہ میری ان باتوں کا تم پر اثر ہوتا ہے یا نہیں۔اگر میں نے دیکھا کہ تم پر ان باتوں کا اثر نہیں تو میں اس نظام کو ختم کر دوں گا۔سینکڑوں آدمی تمہارے اس نمونہ کی وجہ سے احمدیت میں داخل ہونے سے رُک گئے ہیں بعض نو جوانوں میں وہی آوارہ گردیاں پائی جاتی ہیں، وہی گانے ہیں ، وہی اسلامی احکام سے تمسخر پایا جاتا ہے ابھی جب میں ربوہ آیا ہوں تو پرنسپل جامعہ احمدیہ نے مجھے ایک چٹھی لکھی لیکن دیکھو انسان کی کی جب حالت گر جاتی ہے تو اس کی اخلاقی حالت کیا ہو جاتی ہے وہ لکھتے ہیں جب میں بورڈنگ گیا تو لڑ کے شور مچارہے تھے۔اگر لٹر کے شور مچارہے تھے تو کوئی بات نہیں لیکن آگے کیا ہوتا ہے۔یہ تو وہی بات ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک شخص نے بتایا کہ فلاں مولوی صاحب نے نکاح پر نکاح پڑھا دیا ہے۔میں نے کہا وہ مولوی صاحب میرے اچھے واقف ہیں مجھے تو تمہاری بات پر یقین نہیں آتا۔اُس نے کہا اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو مولوی صاحب سے خود پوچھ لیں۔دو چار دن کے بعد وہ مولوی صاحب میرے پاس آئے۔میں نے