انوارالعلوم (جلد 21) — Page xxvii
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۲ تعارف کت (۱۸) قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی تقدیر تھی حضرت مصلح موعود نے ۲۷ دسمبر ۱۹۴۹ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ خطاب فرمایا جس میں اس امر پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی کہ قادیان سے ہمیں کیوں ہجرت کرنی پڑی۔اس بارے میں حضور نے فرمایا کہ ہمارا یہاں آنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ دیر کی ایک الہی تقدیر ہے۔اس ہجرت کے بارے میں یسعیاہ کی کتاب میں بھی ذکر ہے اور زکریا نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حَرِزْ عِبَادِى إِلَى الطُّورِ حدیث صحیح مسلم میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں بھی اس کا واضح اشارہ ملتا ہے۔حضور نے اپنی رؤیا کا بھی تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا جس میں ربوہ کی طرف ہجرت کا اشارہ پایا جاتا ہے۔اور وہ قبل از ہجرت الفضل میں بھی شائع ہو چکی تھی۔پھر آپ نے ربوہ کی معجزانہ آبادکاری اور اس میں میٹھے پانی کے نکلنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔اور فرمایا۔وو اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ربوہ کی پوزیشن کیا ہے۔ربوہ کو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کا دوسرا مسکن مقرر فرمایا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسیح موعود کی الہامی جائے پناہ قرار دیا ہے۔میرے الہامات نے اس پیشگوئی کے قرب میں پورا ہونے کا اعلان کیا ہے۔سو اب یہ مقدس ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی مقدس جگہیں ہوتی ہیں۔“ 66 اسی طرح آپ نے ربوہ کے تقدس کے متعلق فرمایا:۔پس اب یہ ایک مقدس مقام ہے اور یہاں کی عبادتیں دوسری جگہوں کی عبادتوں سے اچھی ہیں۔اور یہاں کی رہائش دوسری جگہوں کی 66 رہائش سے اچھی ہے۔‘‘ اس مرکز کے قائم ہونے سے جماعت کو جو ترقیات مل رہی تھیں ان کا تذکرہ بھی فرمایا اسی طرح آپ نے احباب جماعت کو تحریک جدید میں اپنی رقوم بطور امانت