انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 184

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۸۴ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر بچتے ہیں۔میرے بھی کئی مریض مرتے ہیں اور آپ کے بھی کئی مریض مرتے ہیں یا تو کہیں کہ آپ کا مریض مرتا ہی نہیں۔ڈاکٹر ہوشیار آدمی تھا اُس نے کہا میرے مریض بچتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں لیکن تمہارے مریض بچتے ہیں تو وہ اتفاقی طور پر بچ جاتے ہیں اور میرے مریض بچتے ہیں تو وہ میرے علم کے ماتحت بچتے ہیں۔اور پھر میرے مریض مرتے ہیں تو قانونِ قدرت کے ماتحت مرتے ہیں لیکن تمہارے مریض جہالت کی وجہ سے مرتے ہیں ورنہ موت تو بدل نہیں سکتی۔غرض مرنے کا بھی ایک فن ہوتا ہے اور مارنے کا بھی ایک فن ہوتا ہے اور جس شخص کو یہ دونوں فن نہ آتے ہوں وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وقت آنے پر میں پاکستان کی حفاظت کروں گا اور کی اسے دشمن سے بچالوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔کوئی بادشاہ تھا اُس نے اپنے وزیروں کو بُلایا اور اُن سے دریافت کیا کہ فوج پر کیا خرچ ہوتا ہے؟ وزیروں نے بتایا کہ مثلاً فوج پر پچاس لاکھ یا ساٹھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا اتنا روپیہ یونہی فوج پر بر باد کیا جا رہا ہے یہ تو بیوقوفی کی بات ہے۔وزیروں نے کہا بادشاہ سلامت! پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔بادشاہ نے کہا یہ بیوقوفی کی بات ہے فوج پر اتنا روپیہ خرچ نہیں کرنا چاہیے۔لڑائی کا کیا ہے یہ قصاب جو روزانہ جانور ذبح کرتے ہیں کیا یہ فوج کا کام نہیں دے سکتے ؟ جب لڑائی کا موقع آیا ہم انہیں محاذ پر بھیج دیں گے۔چنانچہ ملک کی فوج برخواست کر دی گئی اور تمام قصابوں کو یہ کہ دیا گیا کہ وہ وقت آنے پر لڑائی کے لئے تیار رہیں۔ہمسایہ بادشاہ نے جب یہ دیکھا کہ اس ملک کا بادشاہ اتنا عقلمند ہے کہ اس نے اپنی فوج کو برخواست کر دیا ہے اور قصابوں کو لڑائی کی کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے تو وہ اپنی فوجیں لے کر اُس ملک پر چڑھ آیا۔قصابوں کو حکم دے دیا گیا کہ وہ لڑائی کے لئے چل پڑیں۔اس پر تمام قصاب اپنی چھریاں تیز کر کے لڑائی کے لئے چل پڑے۔پانچ چھ منٹ کی لڑائی کے بعد ہی وہ بھاگتے ہوئے بادشاہ کے پاس آئے اور شور مچانا شروع کر دیا کہ بادشاہ سلامت فریاد! فریاد! فریاد! بادشاہ اس انتظار میں تھا کہ لڑائی کی کے متعلق کوئی خوشکن خبر آئے۔وہ قصاب جب چلاتے ہوئے دربار میں آئے تو بادشاہ نے پوچھا یہ کیا ؟ قصابوں نے جواب دیا بادشاہ سلامت ! ہم ایک آدمی کو دو تین مل کر پکڑتے ہیں اور