انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 183

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۸۳ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر اور بڑا سٹیشن بنایا جائے۔اب ڈاک خانہ والوں کے بھی آدمی آئے ہیں اور وہ بھی یہاں ڈاکخانہ کھولنے کے لئے تیار ہیں اور اگر بات پختہ ہو گئی تو پھر منی آرڈروں کے آنے جانے اور دوسری ڈاک میں بھی سہولت پیدا ہو جائے گی اور دوسرے لوگوں سے ہمارے تعلقات زیادہ اچھے ہو جائیں گے۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ کثرت سے ربوہ آنا جانا شروع کر دے اور پھر وہ ریل کے ذریعہ سفر کرے سوائے کسی مجبوری کے یا سوائے اس کے کہ انہیں ریل کے ذریعہ سفر کرنے میں نقصان ہوتا ہو۔اس کے بعد میں اس کڑی کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جو ربوہ کے قیام کے متعلق کی ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان میں جب انگریز کا راج تھا اور ہم اُس کی رعایا تھے اُس وقت حکومت میں ہمارا کوئی دخل نہیں تھا۔اب پاکستان بن چکا ہے اور حکومت جہاں قومی ہے وہاں ہماری محسن بھی ہے۔اس لئے ہم پر اب پہلے سے زیادہ فرض ہے کہ اس کی حفاظت اور مضبوطی کے لئے کوشش کریں۔اور حفاظتیں خالی نعروں سے نہیں ہوا کرتیں ، صرف منہ سے یہ کہہ دینا کہ ہم اپنے ملک کی حفاظت کریں گے اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دینا اس بات کا یقین نہیں دلاتا کہ پاکستان کی واقعہ میں حفاظت کی جائے گی۔خالی نعروں سے پاکستان زندہ نہیں ہوگا۔وہ زندہ اُسی وقت ہوگا جب آپ لوگ ملک کی خاطر موت کے لئے تیار ہو جائیں گے۔جب تک آپ خود مردہ باد نہیں ہو جاتے پاکستان زندہ باد کس طرح ہو سکتا ہے۔اگر آپ منہ سے ” پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا ئیں کی اور جب اس کی حفاظت کا سوال آئے تو کہہ دیں ہم اس کے ذمہ دار نہیں تو پاکستان زندہ باد کس طرح ہو سکتا ہے۔پاکستان اُس وقت زندہ باد ہوگا جب آپ موت کے لئے تیار ہو جائیں گے۔اور مرنے کے بھی ڈھنگ ہوتے ہیں سارے لوگ مرنا بھی نہیں جانتے۔کہتے ہیں کسی مجلس میں ایک ڈاکٹر اور ایک اناڑی طبیب دونوں بیٹھے تھے کہ طب کا ذکر شروع ہو گیا۔اناڑی طبیب کے متعلق ڈاکٹر نے کہا کہ اسے طب نہیں آتی یونہی اس نے علاج کی کرنا شروع کیا ہوا ہے۔اس پر اناڑی طبیب نے کہا جناب! یہ باتیں تو ہوتی رہتی ہیں آپ کا علم بھی ہم نے دیکھ لیا کہ وہ کتنا وسیع ہے۔میرے بھی کئی مریض بچتے ہیں آپ کے بھی کئی مریض