انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 154

انوار العلوم جلد ۲۱ ہے۔۱۵۴ آئندہ وہی قو میں عزت پائیں گی جو مالی و جانی اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ یہ وہ تکالیف تھیں جو اُنہوں نے اُٹھا ئیں مگر جانتے ہو ان تکالیف کا عثمان کو کیا بدلا ملا ؟ اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آپ کو بدلا ملا وہ تو علیحدہ چیز ہے اس دنیا میں ہی حضرت عثمان کو ان قربانیوں کا جو بدلا ملا وہ اتنا شاندار ہے کہ آج دنیا کا بڑے سے بڑا مسلمان بادشاہ بھی یہ کہنے کے لئے تیار ہوگا کہ کاش ! مجھے اور میرے سارے خاندان کو کولہو میں نہیں دیا جائے مگر وہ چیز مجھے میسر آ جائے۔وہ بدلہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ کی آخری عمر میں وفات سے دو تین سال پہلے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام آپ نے ابراہیم رکھا وہ آپ کی آخری عمر کا ایک ثمر تھا مگر وہ دو سال کا ہو کر فوت ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی لاش کو دفنانے کے لئے لے گئے۔جب آپ قبر کے پاس پہنچے ، جنازہ پڑھا گیا تو آپ نے بچہ کی لاش کو ہاتھ میں لیا اور قبر میں اُترے تا کہ اُسے لحد میں رکھ دیں۔لحد میں رکھتے ہوئے آپ نے ایک فقرہ کہا جو عثمان بن مظعون کی وفات کے چھ سال بعد آپ کی زبان سے نکلا۔عثمان بن مظعون شہید ہو چکے تھے وہ جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے جو ہجرت کے دوسرے سال ہوئی تھی اور یہ واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے آٹھویں سال ہوا گویا چھ سال کے قریب حضرت عثمان کی وفات پر گذر چکے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فقرہ اُس وقت کہا وہ ایک بہترین انعام تھا جو اس دنیا کا کوئی انسان حاصل کر سکتا ہے۔آپ نے ابراہیم کی لاش کو اپنے ہاتھ میں لیا۔گھٹنے قبر میں ٹیکے اور اُسے لحد میں رکھتے ہوئے فرمایا۔جاؤ اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ سال کے عرصہ کے بعد اپنی آخری عمر کے بیٹے کی وفات پر جس کے بعد کوئی اور اولاد ہونا ناممکن نظر آ رہا تھا اگر کوئی جذبہ افسوس ظاہر کیا تو یہ کیا ت۔کہ آج سے چھ سال پہلے میرا بیٹا عثمان شہید ہو گیا تھا۔اب اے ابراہیم ! چھ سال کے بعد تو نے مجھے پھر عثمان یاد دلا دیا۔اگر عثمان کو ساری دنیا کی بادشاہت کے تخت پر بھی بٹھا دیا جاتا اور عثمان کو خدا تعالی دائمی زندگی بھی بخش دیتا اور ہمیشہ ہمیش اس دنیا پر حکمرانی کرتا رہتا ، اگر عثمان کی کی ایک آنکھ نہیں ، دونوں آنکھیں نکال دی جاتیں ، اُس کے دونوں کان کاٹ دیئے جاتے ، اُس