انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 148

انوار العلوم جلد ۲۱ اتفاقی ہوگی۔۱۴۸ آئندہ وہی قو میں عزت پائیں گی جو مالی و جانی۔پس اس جلسہ کی غرض اور اہمیت آپ لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔یہ جلسہ تقریروں کے لئے نہیں ہے۔حج ہر سال ہوتا ہے مگر وہاں کوئی تقریر نہیں ہوتی لیکن ساری دنیا سے مسلمان ہزاروں ہزار میل چل کر خانہ کعبہ کے پاس جمع ہوتے ہیں۔ہر سال دو تین لاکھ حاجی وہاں جمع ہو جاتا ہے اور اس دو تین لاکھ کے مجمع کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ عرفات چلے گئے ، وہاں سے مزدلفہ روانہ ہو گئے ، مزدلفہ سے منی آگئے اور پھر پتھروں کے بنے ہوئے ایک مکان کے اردگرد چکر لگائے ، قربانیاں کیں اور کام ختم ہو گیا۔ساڑھے چار ہزار سال سے کعبہ کی بنیاد پڑی ہے اور ی یہ وہ بنیاد ہے جوا برا نہیمی ہے۔بالکل غالب ہے کہ خانہ کعبہ اس سے بھی پہلے کا ہو اور قرین قیاس یہی ہے کیونکہ قرآن کریم کی بعض آیتوں سے یہی نکلتا ہے کہ خانہ کعبہ پہلے سے تھا لیکن اگر اس امر کو نظر انداز کر دو تب بھی ساڑھے چار ہزار سال سے ہزاروں ہزار میل کے فاصلہ سے لوگ وہاں جاتے اور ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے جاتے ہیں۔اب تک بھی وہاں ریلی نہیں بنی اور وہاں کی زمین کی یہ حالت ہے کہ جس قسم کی ریتلی زمین یہاں ہے یہ اُس کے مقابلہ میں شاہی سڑکوں سے کم حیثیت نہیں رکھتی۔جدہ سے مکہ جاتے ہوئے جس قسم کے میدانوں سے گذرنا پڑتا ہے اُسے دیکھ کر یہ پتہ ہی نہیں چل سکتا کہ سڑک کونسی ہے ، جنگل کونسا ہے اور میدان کونسا ہے۔یہاں تو شیڈ بنا دیئے گئے ہیں مگر وہاں سائے کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔اونٹ چلانے والے رات کو کسی جگہ اونٹ بٹھا دیتے ہیں اور اُن اونٹوں کے پاس ہی کچھ اونٹوں کی کی سواریاں، کچھ اونٹ چلانے والے اور کچھ اور لوگ جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم ان کے ساتھ مل گئے تو ی ڈا کو ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے، اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ریت پر سر رکھ کر سو جاتے ہیں۔پھر جو گردوغبار یہاں اُڑ رہا ہے وہاں کوئی دوسرا شخص پاس سے گذرے تو گردوغبار کی وجہ سے نظر بھی نہیں آتا مگر باوجود اس کے ہزاروں سال تک لوگوں نے ہنسی ہنسی اور خوشی خوشی ان تکالیف کو برداشت کیا ہے کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔آپ لوگوں کو تو صرف ایک سال اس کا تجربہ ہوا ہے اگلے سال شاید یہ نعمت آپ لوگوں کو میسر نہ آئے۔اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں مرکز قائم ہو گیا تو اگلے سال بہت سی سہولتیں میسر